پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

’’ قصاب بےلگام گوشت کے منہ مانگے دام مقرر‘‘ بڑے اور چھوٹے گوشت کی نرخوں میں ہوشربا اضافہ قصابوں نے سرکاری ریٹ لسٹ ردی کی ٹوکری میں پھینک دی

datetime 21  مئی‬‮  2021 |

مکوآنہ (این این آئی )فیصل آباد بیلگام قصابو ں نیخودساختہ ریٹ مقرر کر لیے انتظامیہ نے چپ سادھ لی شہریوں کا حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق پرائس کنٹرول مجسٹریٹس عوام کو نہ صرف ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہے ہیں بلکہ سرکاری نرخناموں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی یقینی بنانا اس کے بس میں دکھائی نہیں دے رہا ہے

پرائس کنٹرول کمیٹیاں منظر سے غائب ہو چکی ہیں جس کی بنا پر بیلگام قصابوں نے خود ساختہ ریٹ مقرر کر رکھے ہیں قصا ب حضرات بڑا گوشت 600 روپے کلو اور چھوٹا گوشت 1200روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرکے شہریوں کی بھی کھال اتار رہے ہیں قصابوں نے سرکاری ریٹ لسٹ ردی کی ٹوکری میں پھینک دی ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ پرکشش مراعات اور تنخواہیں ہیں وصول کرنے والے پرائس کنٹرول کمیٹیاں مجسٹریٹ سرکاری نرخنا موں پر عمل درآمد کروانے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں ہیں اور شہریوں کو خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ ضلعی انتظامیہ زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی طور پر عوام کو ریلیف فراہم کریں اور من مرضی کے ریٹ وصول کرنے والے قصابوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…