ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جہانگیر ترین کے ساتھ ناانصافی نہیں کی،جب میں مخالف سے نا انصافی نہیں کرتا تو اپنی پارٹی میں جہانگیر ترین سے کیوں کروں،وزیراعظم عمران خان

datetime 11  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ ناانصافی نہیں کی۔ ٹیلیفون پر عوام سے براہ راست گفتگو میں وزیراعظم نے جہانگیر ترین سے متعلق ایک شہری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے لیکن جہانگیر ترین کو واضح طور پر کہا ہے، میں نے ناانصافی کبھی کسی سے نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ

جو میرے مخالف ہیں جن کے خلاف میں نے 25 سال جنگ لڑی ہے اور جہاد کیا ہے، کسی سے بھی میں نے کسی قسم کی ناانصافی نہیں کی، کوئی آج مجھے کہے کہ کسی پر جھوٹا کیس بنایا ہے اور انتقامی کارروائی کی ہے، کوئی ایک جگہ بتائیں۔انہوں نے کہا کہ تو جب میں مخالف سے نہیں کرتا تو اپنی پارٹی میں جہانگیر ترین سے کیوں کروں، اس لیے ناانصافی کسی سے بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ میرا وعدہ ہے کہ جنہوں نے چینی مہنگی کرکے عوام کو تکلیف پہنچائی ہے اگر میری حکومت بھی چلی جاتی ہے تو ان کو این آر او نہیں ملے گا۔عمران خان نے کہا کہ ملک کے بڑے سیاست دان اور اشرافیہ سب کی شوگر ملز ہیں، جب چینی ایک روپے مہنگی ہوتی ہے تو عوام کے جیب سے 5 ارب روپے نکل کر شوگر ملوں کے پاس چلے جاتے ہیں اور ہمارے دور میں 25 روپے چینی مہنگی ہوگئی تو سوچیں ایک سو ارب سے زائد روپے عوام کے جیبوں سے نکل کر شوگر ملز کو گئے۔انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں نے 5 برسوں میں ٹیکس 22 ارب روپے دیا ہے، اس میں سے ان کو 12 ارب روپے واپس ملے تو مجموعی طور پر 10 ارب روپے انہوں نے ٹیکس دیا جبکہ 5 برسوں میں 29 ارب روپے سبسڈی ملی ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ طاقت ور لوگ نہ ٹیکس دیتے ہیں اورچینی جب چاہے مہنگی کرتے ہیں لیکن سارا سال چینی کی قیمت اوپر جاتی ہے، اس لیے میرا وعدہ ہے کہ مافیا سے کوئی رعایت نہیں ہوگی لیکن کسی سے ناانصافی بھی نہیں ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…