جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

لاک ڈائون کی آڑ میں پھلوں اور چینی کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

datetime 11  مئی‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن)کرونا وائرس کے سبب کراچی میں لاک ڈائون کی آڑ میں منافع خور مافیاپھلوں اوربعض سبزیوں کی قیمتیں کم کرنے کو تیار نہیں ۔بابرکت ماہ رمضان المبارک کا اختتام قریب آتے ہیں کے ساتھ ہی شہر میں چینی کی قلت پیدا کرکے اس کی قیمت کو بڑھا دیا گیا ہے اورچینی 5 کی خوردہ قیمت روپے بڑھ کر 105روپے کلو ہوگئی ہے۔عیدکا چاندنظرآنے میں تین روز باقی ہیں

اورعید کے موقع پر کثرت سے استعمال کی جانے والی بیشتر اشیا کی قیمتوں میں  اضافہ کردیا گیا ہے۔ چینی،آٹا اورتیل کی کھپت بڑھنے کی وجہ سے عید  کے موقع پر دکانداران اشیاء کی  قیمت بڑھانے کی تیاریاں کرچکے ہیں ۔تاہم کھجورکا استعمال کم ہوجانے سے اس کی قیمت بھی کم ہوگئی ہے اسی طرح جوں جوں آخری عشرے کا اختتام قریب ہے تو روزے داروں نے پکوڑوں کا استعمال بھی کم کردیا ہے جس کی وجہ سے بیسن کی فروخت میں بھی کمی آگئی۔چنے کی دال کی قیمت بھی عید کے بعد کم ہونے کا امکان ہے۔ریٹیلرز گروسرزایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری فریدقریشی نے بتایا کہ درآمدی اجناس کے جہاز بندرگاہ پر تعطیلات کے سبب رکے ہوئے ہیں اور اب اجناس کی عید کے بعد ہی سپلائی ہوسکے گی۔انہوں نے کہا کہ اتوار سے حکومت سندھ کے اعلان کے بعد مارکیٹوں میں سناٹوں کا  راج  ہے،کریانے کی دکانیں تو کھلی ہوئی ہیں لیکن خریدار لاک ڈائون کی وجہ سے نہیں آرہے۔کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے۔ہرسال عید کے موقع پرمٹھائی اور نمکو کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے لیکن کرونا کی وجہ سے لوگ  عیدالفطرمٹھائی کی خریداری سے بھی گریز کریں گے۔ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اختتامی دنوں میں سموسے، رول، پیٹیس، نمکو کی فروخت بھی کم ہوگئی ہے ۔پھلوں  کا بادشاہ آم اگرچہ پوری طرح فروخت کیلئے مارکیٹ میں نہیں آسکا ہے لیکن جلد بازی میں پکاکر لایا گیاآم200روپے سے بھی زائد قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے اسی طرح خربوزہ جو 50روپے کلو فروخت ہورہا تھا وہ بھی اتوار اور پیر کے روز 150روپے کا 2کلو فروخت کیا گیا۔کیلا 150روپے سے200روپے فی درجن پہنچ گیا ۔صارفین کا کہنا ہے کہ بازاروں  سبزی،پھل فروش اورکریانہ دکاندار  سرکاری نرخ کی کھلے عام دھجیاں اڑ رہے ہیں، شہری انتظامیہ ماہ رمضان میں نمائشی کارروائیوں میں مصروف رہی، مہنگائی روکنے کے لیے گراں فروشی پر قابو پانا بھی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنادیا جائے اور ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کرنے والے عناصر کے خلاف دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلاکر سخت سزائیں دی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…