جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

مسجد الاقصیٰ پر اسرائیلی فورسز کے حملے وزیر اعظم عمران خان نے بھی خاموشی توڑ دی،شدید ردعمل

datetime 9  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(اے پی پی)وزیرِ اعظم عمران خان نے قبلۂ اول، مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فورسز کے بلخصوص رمضان المبارک کے دوران حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئےۓ ان حملوں کو انسانیت اور بین الاقوامی قانون کی تمام اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اتوار کو اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم فلسطینی عوام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ فلسطینیوں اور

انکے جائز قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرے۔دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ ‏کتنی گھنائونی بات ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی نسلی امتیاز اور مظالم جاری ہیں۔ اتوار کو اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ مسلمان نمازیوں پر حملوں کے مناظر کو مغربی میڈیا پر معمول کی جھڑپیں قرار دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میرے بھائی پر امید رہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب بین الاقوامی سیاست ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ اخلاقیات پر مبنی ہوگی۔علاوہ ازیں  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اتوار کو مسجد اقصی میں نمازیوں پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطین کے مقصد کی حمایت میں ہمیشہ کی طرح کھڑا ہے۔ وزیر خارجہ نے ٹویٹر پر کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں اسرائیلی قابض فوج کی طرف سے مسلم امہ کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں معصوم نمازیوں پر ھملے اور بربریت کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بربریت انسانیت اور انسانی حقوق کے قوانین کے خلاف ہے۔قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مختلف چینلز سے گفتگو کے دوران مسجد اقصی میں رمضان المبارک کی 27 ویں شب عبادت کے دوران اسرائیلی فوج کے حملے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نماز یوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں ، جائیدادوں سے ظلم و بربریت کے

ذریعے بے دخل کرنے کا کوئی اخلاقی، سیاسی جواز نہیں ہے، پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ اور ان کے حقوق کا علمبردار ہے ، عرب لیگ، او آئی سی اور امت مسلمہ کو یکجا ہوکر آواز اٹھانا ہو گی،عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانا بر وقت فیصلہ اور مناسب قدم ہے انسانی حقوق کے علمبردار مغربی ممالک اورہیومن رائٹس کونسل بھی فی الفور اس صورتحال کا نوٹس لیں۔

نجی ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان نے مسجد اقصی میں عبادت کے دوران اسرائیلی فوج کے حملے کی پر زور مذمت کی ہے ، اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کی 27 ویں شب کو جب لوگ نماز اور نوافل ادا کر رہے تھے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے ان کی جائیدادوں سے اس طرح ظلم اور بربریت کے ذریعے بے دخل کیا جائے اس کا کوئی اخلاقی،

کوئی سیاسی جواز نہیں ٹھہرتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ ہے انکے حقوق کا علمبردار ہے اور پاکستان نے ہمیشہ ٹھوس موقف اپنایا ہے اور آج بھی اپنا رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ عرب لیگ نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے،یہ بر وقت فیصلہ اور مناسب قدم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یکجا ہو کر عرب لیگ کو، او آئی سی کو امہ کو اس پر بات کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک جو انسانی حقوق کے علمبردارکہلاتے ہیں ان کی توجہ

اس طرف مبذول کرانی چاہیئے کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی توجہ مبذول کرانے کے لئے سب سے اہم چیز اتفاق و یکجہتی ہے، انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں ہیں جو مسلمانوں کے اتفاق کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں، غلط فہمیوں کو ہوا دیتی ہیں ، جھوٹا پراپیگنڈہ اجاگر کرتی ہیں ، مسلمان ممالک کے اندر نفرت کے بیج بوتی ہیں ان کو شکست دینا ہوگی اور ان کے عزائم کو خاک میں ملانا ہوگا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا،

او آئی سی کے پلیٹ فارم سے،اقوام متحدہ ، ہیومن رائٹس کونسل کے پلیٹ فارم سے یکسوئی سے اپنے موقف ، اپنی موثر آواز کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ جس طرح فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی پاکستان نے بڑے ٹھوس انداز میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کے حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے موقف کا اعادہ کرنا چاہوں گا کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں، یہ ظلم فی الفور بند ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیئے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…