جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے غریب انسانیت کیلئے مثال قائم کر دی  اپنی جیب سے فلاحی اداروں کو ایک کروڑ ریال عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا

datetime 7  مئی‬‮  2021 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے فلاحی اداروں کو اپنی جیب سے ایک کروڑ ریال کی رقم عطیہ کرنے کے احکامات دیے ہیں۔میڈیارپورٹس میں بتایاگیا کہ ولی عہد کے احکامات کے مطابق مملکت کے اندر فلاحی خدمات انجام دینے والے 29 اداروں اور تنظیموں کو 87 ملین ریال کی رقم عطیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ 150 قیدیوں کی

رہائی کے لیے 13 ملین ریال کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔سعودی ولی عہد کی طرف سے عطیہ کی گئی رقم سند محمد بن سلمان پروگرام کے ذریعے ادا کی جائے گی۔ عطیے کی رقم 8 اہم سماجی شعبوں میںصرف کی جائے گی جن میں خواتین کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں، معذوروں کی کفالت کرنے والے ادارے، کینسر کے مریضوں کے علاج اور ان کی بحالی میں سرگرم تنظیمیں، مطلقہ اور بیوہ خواتین کی بہبود، یتیموں کی بہبود، صحت،سنڈروم چیئرٹی، بزرگ شہریوں کی کفالت جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ سعودی ولی عہد کی طرف سے ذاتی طور پر ایک کروڑ ریال میں سے 150 ایسے قیدیوں کی رہائی کے لیے 13 ملین ریال کی رقم مختص کی گئی ہے جو جرمانوں کی عدم ادائی کی وجہ سے قید ہیں تاہم فوج داری کیسز کے تحت قید مجرموں کے لیے یہ رقم صرف نہیں کی جاسکے گی۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے ایک کروڑ ریال کی رقم عطیہ کرنے سے ان کے انسانی بہبود کے جذبے اور غیر منافع بحش اداروں کی مدد کی مساعی کی عکاسی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ ولی عہد کی طرف سے گذشتہ چار سال سے سالانہ ایک کروڑ ریال کی رقم عطیہ کی جاتی ہے جن سے یتیموں، بیوائوں، معذوروں، کینسر کے مریضوں، بزرگوں، نوجوانوں کی شادیوں اور ضرورت مند خاندانوں کے ایک لاکھ 20 ہزار افراد مستفید ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…