منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بدعنوانی کے بڑے کیسز کی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت

datetime 16  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیرداخلہ نے ایف آئی اے حکام کواحکامات جاری کئے ہیں کہ میگاکرپشن مقدمات کی تحقیقات جلد ازجلد کی جائیں ۔انہوں نے کہاکہ ایف آئی اے کونئے قوانین کے تحت اب میگاکرپش پکڑنے کے لئے اختیارات زیادہ ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اب کسی بھی دباﺅ کوبالائے طاق رکھتے ہوئے کرپشن کے خاتمے کاوقت آگیاہے ۔وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے وفاقی تفتیشی ادارے “ایف آئی اے” کو ہدایت کی ہے کہ وہ بدعنوانی کے تمام بڑے معاملات کی تحقیقات کر کے آئندہ چند ہفتوں میں ان کا مکمل چالان عدالتوں میں پیش کرے۔یہ ہدایت انھوں نے اسلام آباد میں اپنی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں دی جس میں کوائف کے اندراج کے قومی ادارے “نادرا”، ایف آئی اے، پولیس اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔ایک سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، متروکہ وقف املاک بورڈ، اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن، نیو بینظیر بھٹو ہوائی اڈے اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے ساتھ ساتھ حج کے امور میں بدعنوانی کی شکایات اور معاملات کا جائزہ لیا گیا۔حالیہ برسوں میں مختلف سرکاری اداروں میں اربوں روپے کی بدعنوانی کے انکشافات سامنے آچکے ہیں جب کہ قومی احتساب بیورو نے بھی رواں ماہ عدالت عظمیٰ میں ایک فہرست پیش کی تھی جس میں مختلف اہم سیاسی و سرکاری شخصیات کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی جاری تحقیقات کا بتایا گیا تھا۔وفاقی وزیرداخلہ نے ایف آئی اے کے عہدیداروں سے کہا کہ تمام قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بدعنوانی کی تحقیقات کو پورا کیا جائے۔مبصرین اور ناقدین ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی میں ملوث افراد اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے نہ صرف تفتیش پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ عدالتوں میں ان کے وکلا قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر مقدمات کو اتنا طویل کر دیتے ہیں کہ فیصلوں تک پہنچتے پہنچتے یہ معاملات اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔بیان کے مطابق چودھری نثار نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ تحقیقات میں کسی قسم کا دباؤ برداشت نہ کرتے ہوئے ان معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…