منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

لوگوں کو قطار میں لگا کر چینی دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے یہ ان کی تذلیل ہے

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد ( آن لائن)قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال ایک بار پھر بدھ کو پارلیمانی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پیش نہ ہوئے جس پر کمیٹی نے اپنے اختیارات کے تحت  انہیں سمن کے ذریعے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب پارلیمانی کمیٹی کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں جو قطعی قابل قبول نہیں ،انہیں ہر حال میں کمیٹی میں پیش ہونا پڑے گا

۔ پی اے سی نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشنز میں کرپشن کے سنگین کیسز پر بھی اظہار برہمی کیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ لوگوں کو قطار میں لگا کر چینی دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے یہ ان کی تذلیل ہے ،کمیٹی نے چینی کے ساتھ دیگر اشیاء خریدنے کی شرط بھی ختم کرنے کی ہدایت کی ۔کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وزارت خزانہ اور وزارت صنعت و پیداوار میں ہونے والی مالی بے قاعدگیوں کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ چیئرمین نیب  جسٹس (ر) جاوید اقبال کے  آج کے اجلاس  میں نہ آنے پر  کمیٹی  نے اراکین کی برہمی کا اظہار کیا ہے ۔کمیٹی اراکین نے کہا کہ  یہ کون سا طریقہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کو چیئرمین نیب اہمیت نہیں دے رہے،کمیٹی ممبر روحیل اصغر نے کہا کہ  اگر چیئرمین نیب اجلاس میں نہیں آتے تو کمیٹی کے پاس لامحدود اختیارات موجود ہیں انہیں استعمال کرے،ان اختیارات کے استعمال  سے چیئرمین نیب کو شرمندگی ہوگی اور اجلاس میں بھی شرکت کریں گے ۔تمام اراکین نے مطالبہ  کیا کہ کمیٹی کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور اس میں ایک واضح فیصلہ لیا جائے ،چیئرمین نیب  اجلا س میں نہیں آتے تو کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے ،کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب پارلیمانی کمیٹی کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں جو قطعی قابل قبول نہیں ،انہیں ہر حال میں کمیٹی میں پیش ہونا پڑے گا۔ پی اے سی نے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشنز میں کرپشن کے سنگین کیسز پر بھی اظہار برہمی کیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ لوگوں کو قطار میں لگا کر چینی دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے یہ ان کی تذلیل ہے ،کمیٹی نے چینی کے ساتھ دیگر اشیاء خریدنے کی شرط بھی ختم کرنے کی ہدایت کی ۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ  یوٹلیٹی سٹورز کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے،2018 میں 40 ملین سے زائد کی کرپشن کا کیسز آج تک چل رہا ہے،اب بھی مختلف سٹورز میں کرپشن اور فراڈ کے 150 ملین کے کیسز ہیں۔ا س موقع پر ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز عمر لودھی نے اجلاس کو بتایا کہ   کرپشن میں کارپوریشن کے چھ ملازمین ملوث ہیں،ایف آئی اے میں کیس بھی چل رہا ہے،ایک ملازم مفرور ہیں جن کے ذمے 2.3 ملین روپے ہیں، گیارہ ملین وصول بھی کیے ہیں،ایف آئی اے حکام نے یوٹیلیٹی کارپوریشن میں کرپشن اور مقدمات سے متعلق بریف کرتے ہوئے بتایا کہ  ایف آئی اے یوٹلیٹی سٹورز میں 96 کیسز کی انکوائری کررہا ہے۔چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین نے    کرپشن کے کیسز میں انکوائری میں سستی پر ایف آئی اے اور نیب پر اظہار برہمی کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے سارا دن چینی کے پیچھے پڑا رہتا ہے اصل کام نہیں کرتا،یوٹلیٹی سٹورز کے معاملے پر الگ سے خصوصی اجلاس کرینگے،کرپشن کا الزام سیاستدانوں پر لگتا ہے مگر سرکاری اداروں میں پیسے کے ضیاع پر نوٹس نہیں لیا جاتا،ہمیں تو اس ساری صورتحال پر دکھ ہے۔کمیٹی ممبر  نور عالم  نے کہا کہ لوگوں کو چینی کیلیے قطاروں میں کھڑا ہونا ہوتا ہے،یہ عوام کی  تذلیل  ہے یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ  افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض لوگ چینی خرید کر سٹورز کو ہی بیچ کر کوئی اور چیز لے لیتے ہیں۔کمیٹی نے  یوٹیلٹی سٹور حکام کو ہدایت کی کہ یوٹلیٹی سٹورز پر چینی کے ساتھ دیگر اشیا خریدنے کی شرط ختم کرے جبکہ چینی  کو راشن سسٹم کے تحت  فروخت کی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…