جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں کوروناوائرس سے غیر ملکی سفارتکار جان کی بازی ہار گیا

datetime 3  مئی‬‮  2021 |

نئی دہلی(این این آئی ) بھارت میں کورونا سے تنزانیہ کے سفارت کار کرنل ڈاکٹر موسیس جان کی بازی ہارگئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی کے اسپتال میں زیر علاج تنزایہ کے ڈیفنس ایڈوائزر کرنل ڈاکٹر موسیس 28 اپریل کو کورونا وائرس سے انتقال کرگئے۔ کورونا وبا کے پیش نظر تنزانیہ کے ہائی کمیشن نے سفارت کار کی موت پر اظہار افسوس اور دہلی جذبات

کے اظہار کے لیے تعزیتی کتاب آئن لائن جاری کی ۔بھارت جہاں کورونا سے یومیہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زیادہ اور نئے کیسز کی تعداد 3 لاکھ 60 لاکھ سے زائد ہے جب کہ نیوزی لینڈ اور فلپائن کے ہائی کمشنز بھی آکسیجن کی مدد طلب کرچکے ہیں وہاں پہلی بار کورونا سے کسی غیر ملکی سفارت کی موت واقع ہوئی ہے۔غیر ملکی سفارت کی کورونا سے ہلاکت پر مودی سرکار کی ناقص کارکردگی بے نقاب ہوگئی ہے، بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بلند بانگ دعووں میں کہا تھا کہ ملک میں موجود سفارتی عملے کو ضروری طبی معاونت فراہم کی جارہی ہے تاہم یہ دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے۔ہولناک کورونا وبا اور مودی سرکار کی ناہلی کے باعث تھائی لینڈ سمیت بعض ممالک نے اپنے سفارتی عملے کو بھارت سے نکالنا شروع کردیا ہے جب کہ دیگر ممالک نے اپنے سفارت کاروں کے لیے سخت ایس اوپیز کا تعین کیا ہے جس پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے۔دوسری جانب بھارت میں مسلسل بارہویں روز کورونا سے 3

لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے جس کے بعد ملک میں وبا سے متاثرین کی تعداد لگ بھگ 2 کروڑ ہوگئی جبکہ مزید 3 ہزار 417 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزارت صحت نے بتایاکہ ملک میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 3 لاکھ 68 ہزار 147 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد یہاں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 99 لاکھ

جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 18 ہزار 959 ہوگئی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ ایک ارب 35 کروڑ کی آبادی والے ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے 5 سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔وبا کے پھیلا کو کم کرنے کے لیے کم از کم 11 ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز نے کسی نہ کسی صورت میں بندشیں عائد کردی ہیں،

تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت معاشی اثرات کے باعث ملک بھر میں لاک ڈان نافذ کرنے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔مشی گن یونیورسٹی میں ماہر وبائیات بھرامر مکھرجی نے ٹوئٹر پر کہا کہ میری رائے میں قومی سطح پر گھر میں رہنے کا حکم اور طبی ایمرجنسی ڈکلیئر کرنے سے ہی صحت کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ صرف یومیہ کیسز نہیں بلکہ فعال کیسز بھی بڑھ رہے ہیں جن کی اس وقت تعداد تقریبا 35 لاکھ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…