جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

ڈارک ویب پر 11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا 35 کروڑ روپے میں فروخت، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 21  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی) سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو شہریوں کے حساس ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی کرنے کا حکم دے دیاہے۔سندھ ہائی کورٹ میں ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزار طارق منصور

ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ 11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا فروخت کیا جا رہا ہے، یہ ڈیٹا ڈرک ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے، حساس ڈیٹا 35 کروڑ روپے میں فروخت کیا جارہا ہے، اپ لوڈ کئے گئے ڈیٹا میں موبائل صارفین کا شناختی کارڈ نمبر، مکمل ایڈریس فون نمبر و دیگر معلومات شامل ہیں،ابھی تک کوئی نیشنل سائبر پالیسی نہیں، پاکستان میں سائبر کرائم کے چار بڑے واقعات ہو چکے، کوئی مزید بڑا واقعہ ہوگیا تو قانونی تحفظ ہی نہیں ہوگا۔عدالتی استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے، دو سے تین ماہ میں مکمل قانون سازی کرلیں گے، قانون سازی کا ڈرافٹ تقریبا تیار کرلیا گیا ہے، قانونی ڈرافٹ کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حساس ڈیٹا سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دے دیا، عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت کو حساس ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی سے متعلق جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…