جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ پر حکم امتناعی جاری

datetime 15  جولائی  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے باٹا پور میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے درخواست پر لارجر بنچ بنانے کی سفارش کر دی ۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی ۔ درخواست گزاروں کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ کلکٹر لاہور نے 10 جون کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 ءکی دفعہ 4کے تحت موضع کھیڑا اور سلطان پور میں واقع 1188 کنال اور پانچ مرلے اراضی ایکوائر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ۔یہ اراضی پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ حاصل کرنا چاہتی ہے جس کا مقصد باٹا پور کے علاقے میں کوئلے کے چھوٹے پاور پلانٹس لگانا ہے۔باٹا پور اور سلطان پور موضع میں 12لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں اور حکومت کی جانب سے لگایا جانے والا پراجیکٹ ان شہریوں کی صحت اور زندگیوں کے لئے بڑا خطرہ ہے جو کہ آئین میں دیئے گئے بنیاد حقوق کے آرٹیکلز 25,24,23,14,9,4 کے خلاف ہے ۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کول پاور پراجیکٹ بین الاقوامی بارڈر کے قریب تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت دفاع کی پالیسی کے مطابق اس علاقے کو ممنوعہ علاقہ قرار دیا گیا ہے لہٰذا معزز عدالت سے استدعا ہے کہ پلانٹ کی تعمیر کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے اور اراضی ایکوائر کرنے کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کا حکم دیا جائے۔درخواست گزاروں کی جانب سے مزید استدعا کی گئی کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پراجیکٹ پر مزید کام کرنے سے روکنے کا حکم بھی دیا جائے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کا موقف سننے کے بعد باٹا پور میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے درخواست پر لارجر بنچ بنانے کی سفارش کر دی۔ لارجر بنچ تشکیل دینے کے لئے اسی نوعیت کی تمام درخواستیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منظور احمد ملک کو بھجوا دی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…