پیر‬‮ ، 22 جون‬‮ 2026 

کورونا کی برطانوی قسم اوریجنل وائرس کے مقابلے میں 45 سے 90 فیصد زیادہ لوگوں کو بیمار کرتی ہے،رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشاف

datetime 12  اپریل‬‮  2021 |

ٹوکیو(این این آئی)برطانیہ میں گزشتہ سال دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی قسم بی 117 اصل وائرس کے مقابلے میں 1.32 گنا زیادہ متعدی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گئی۔نیشنل انسٹیٹوٹ آف انفیکشیز ڈیزیز کی تحقیق میں کورونا کی برطانوی قسم کے 803 کیسز کا موازنہ بیرون ملک ہونے والی تحقیقی رپورٹس سے کیا گیا۔نتائج میں بتایا گیا کہ کورونا کی برطانوی قسم اوریجنل وائرس کے مقابلے میں 45 سے 90 فیصد زیادہ

لوگوں کو بیمار کرتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کورونا کی برطانوی قسم سے متاثر فرد آگے اوسطا 1.23 افراد میں اسے منتقل کرتا ہے جبکہ اصل وائرس میں یہ شرح 0.94 تھی۔تحقیق میں انتباہ کیا گیا کہ وائرس کی یہ قسم زیادہ طاقتور ہے اور اس کی روک تھام کے لیے موجودہ اقدامات ممکنہ طور پر ناکافی ثابت ہوسکتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ 18 سال سے کم عمر افراد میں وائرس کی اس قسم سے متثر ہونے کی تعداد اصل وائرس سے متاثر ہونے والوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔اس سے قبل مارچ میں طبی جریدے بی ایم جے میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کورونا کی برطانوی قسم پرانی اقسام کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ جان لیوا ہے۔برسٹل، لنکاشائر، واروک اور ایکسٹر یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں یکم اکتوبر 2020 سے 29 جنوری 2021 کے دوران کورونا کی برطانوی قسم سے متاثر 54 ہزار مریضوں کا موازنہ اتنی ہی تعداد میں پرانی قسم سے بیمار ہونے والے افراد سے کیا۔انہوں نے عمر، جنس، نسل، علاقے اور سماجی حیثیت جیسے عناصر کو مدنظر رکھ کر یقینی بنایا کہ اموات کی وجہ کوئی اور نہ ہو۔یہ کسی طبی جریدے میں شائع ہونے والی پہلی تحقیق ہے جس میں کورونا کی برطانوی قسم سے اموات کی شرح کا تعین کیا گیا۔محققین نے دریافت کیا کہ کورونا کی اوریجنل قسم سے شرح اموات ہر ایک ہزار میں 2.5 تھی مگر برطانوی قسم میں یہ شرح ہر ایک ہزار میں 4.1 تک پہنچ گئی، جو 64 فیصد زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی یہ نئی قسم نہ صرف زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے بلکہ یہ زیادہ جان لیوا بھی نظر آتی ہے۔اس نئی قسم کے نتیجے میں اموات کی شرح میں اضافے کی وجوہات کو مکمل طور پر واضح نہیں کیا گیا، تاہم حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے کچھ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ بی 1.1.7 سے متاثر افراد میں وائرل لوڈ زیادہ ہوتا ہے، جس کے باعث وائرس نہ صرف زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے بلکہ مخصوص طریقہ علاج کی افادیت کو بھی ممکنہ طور پر متاثر کرسکتا ہے۔برطانیہ میں یہ نئی قسم سب سے پہلے ستمبر میں سامنے آئی تھی اور اس کی دریافت کا اعلان دسمبر 2020 میں کیا گیا تھا، جو اب تک درجنوں ممالک تک پہنچ چکی ہے اور امریکا میں یہ دیگر اقسام کے مقابلے میں 35 سے 45 فیصد زیادہ آسانی سے پھیل رہی ہے۔اس نئی قسم سے لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ اس کا زیادہ تیزی سے پھیلنا ہی ہے، ایک اندازے کے مطابق یہ پرانی اقسام کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد زیادہ متعدی ہے، تاہم کچھ سائنسدانوں کے خیال میں یہ شرح اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…