بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

پنجاب اوقاف نے مساجد،امام بارگاہوں کے لئے ترمیم شدہ کورونا ایس اوپیزجاری کردیئے

datetime 11  اپریل‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) محکمہ اوقاف پنجاب نے رمضان المبارک میں مساجد اورامام بارگاہوں کے لئے ترمیم شدہ کوروناایس اوپیزجاری کردیئے ہیں،60 سال سے زائدعمرکے بزرگوں کومساجدمیں نہ آنے کا مشورہ ، مساجد اورامام بارگاہوں میں اجتماعی سحری اورافطاری پربھی پابندی ہوگی۔اعتکاف کے دوران معتکفین میں 6 فٹ کا فاصلہ رکھنا ہوگا،احتیاطی تدابیرپرعمل درآمدنہ ہونے

اورکوروناکیسزکی تعدادبڑھنے کی صورت میں مساجد کے لئے ضابطہ اخلاق پرنظرثانی کی جائیگی۔20 نکاتی ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ تراویح سمیت نمازپنجگانہ کی ادائیگی کے دوران مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی ، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی ،اگرکچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے ، جو لوگ گھر سے اپنی جائے نماز لا کر اس پر نماز پڑھنا چاہیں ، وہ ایسا ضرور کریں۔ نماز سے پیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے ،ضابطہ اخلاق کے مطابق جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کی بجائے صحن میں نماز پڑھائی جائے تو زیادہ بہتر ہے،60 سال سے زیادہ عمر کے لوگ ، نابالغ بچے اور کھانسی ، نزلہ ، زکام وغیرہ کے مریض مساجد اور امام بارگاہوں میں نہ آئیں،مسجد اور امام بارگاہ کے احاطہ کے اندر نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے ۔ سڑک اور فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے۔مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کیلئے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے ،اسی محلول کو استعمال کر کے چٹائی کے اوپر نماز سے پہلے چھڑکائو بھی کر لیا جائے ۔مسجد اور امامبارگاہ میں صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیا جائے کہ نمازیوں کے درمیان 3 فٹ کا فاصلہ رہے ۔مساجد اور امام بارگاہ ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنا سکے۔مسجد اور امام بارگاہ کے منتظمین اگر فرش پر نمازیوں کے کھڑے ہونے کیلئے صحیح فاصلوں کے مطابق نشان لگا دیں تو نمازیوں کی اقامت میں آسانی ہو گی۔وضو گھر سے کر کے مسجد اور امام بارگاہ تشریف لائیں۔ صابن سے بیس سیکنڈ ہاتھ دھو کر آئیں۔لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ میں تشریف لائیں اور کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں اور نہ بغل گیر ہوں،اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں ، گھر واپسی پر ہاتھ دھو کر یہ کر سکتے ہیں، موجودہ صورتحال میں اعتکاف کیلئے ہر دو معتکفین کے درمیان فاصلہ 6 فٹ ہو گا اور  تمام ایس اوپیزکو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اور سحر کا اجتماعی انتظام نہ کیا جائے ،مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ ، آئمہ اور خطیب ضلعی و صوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ اور تعاون رکھیں۔ مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی جا رہی ہے ، اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں علما و مشائخ کے ساتھ مشاورت سے نظر ثانی کر سکتی ہے ۔دوسری وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہرمحموداشرفی نے کہا ہے 60 سال سے زائدعمرکے بزرگ بھی اگرصحت مندہیں تومسجد میں آسکتے ہیں۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…