جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

پنجاب اوقاف نے مساجد،امام بارگاہوں کے لئے ترمیم شدہ کورونا ایس اوپیزجاری کردیئے

datetime 11  اپریل‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) محکمہ اوقاف پنجاب نے رمضان المبارک میں مساجد اورامام بارگاہوں کے لئے ترمیم شدہ کوروناایس اوپیزجاری کردیئے ہیں،60 سال سے زائدعمرکے بزرگوں کومساجدمیں نہ آنے کا مشورہ ، مساجد اورامام بارگاہوں میں اجتماعی سحری اورافطاری پربھی پابندی ہوگی۔اعتکاف کے دوران معتکفین میں 6 فٹ کا فاصلہ رکھنا ہوگا،احتیاطی تدابیرپرعمل درآمدنہ ہونے

اورکوروناکیسزکی تعدادبڑھنے کی صورت میں مساجد کے لئے ضابطہ اخلاق پرنظرثانی کی جائیگی۔20 نکاتی ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ تراویح سمیت نمازپنجگانہ کی ادائیگی کے دوران مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی ، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی ،اگرکچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے ، جو لوگ گھر سے اپنی جائے نماز لا کر اس پر نماز پڑھنا چاہیں ، وہ ایسا ضرور کریں۔ نماز سے پیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے ،ضابطہ اخلاق کے مطابق جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کی بجائے صحن میں نماز پڑھائی جائے تو زیادہ بہتر ہے،60 سال سے زیادہ عمر کے لوگ ، نابالغ بچے اور کھانسی ، نزلہ ، زکام وغیرہ کے مریض مساجد اور امام بارگاہوں میں نہ آئیں،مسجد اور امام بارگاہ کے احاطہ کے اندر نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے ۔ سڑک اور فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے۔مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کیلئے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے ،اسی محلول کو استعمال کر کے چٹائی کے اوپر نماز سے پہلے چھڑکائو بھی کر لیا جائے ۔مسجد اور امامبارگاہ میں صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیا جائے کہ نمازیوں کے درمیان 3 فٹ کا فاصلہ رہے ۔مساجد اور امام بارگاہ ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنا سکے۔مسجد اور امام بارگاہ کے منتظمین اگر فرش پر نمازیوں کے کھڑے ہونے کیلئے صحیح فاصلوں کے مطابق نشان لگا دیں تو نمازیوں کی اقامت میں آسانی ہو گی۔وضو گھر سے کر کے مسجد اور امام بارگاہ تشریف لائیں۔ صابن سے بیس سیکنڈ ہاتھ دھو کر آئیں۔لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ میں تشریف لائیں اور کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں اور نہ بغل گیر ہوں،اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں ، گھر واپسی پر ہاتھ دھو کر یہ کر سکتے ہیں، موجودہ صورتحال میں اعتکاف کیلئے ہر دو معتکفین کے درمیان فاصلہ 6 فٹ ہو گا اور  تمام ایس اوپیزکو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اور سحر کا اجتماعی انتظام نہ کیا جائے ،مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ ، آئمہ اور خطیب ضلعی و صوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ اور تعاون رکھیں۔ مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی جا رہی ہے ، اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں علما و مشائخ کے ساتھ مشاورت سے نظر ثانی کر سکتی ہے ۔دوسری وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہرمحموداشرفی نے کہا ہے 60 سال سے زائدعمرکے بزرگ بھی اگرصحت مندہیں تومسجد میں آسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…