جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی 3 روپے 34 پیسے مہنگی کرنے کی یقین دہانی کرا دی

datetime 8  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن) عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت نے بجلی 3 روپے 34 پیسے مہنگی کرنے یقین دہانی کرائی ہے، پہلے مرحلے میں بجلی ایک روپے 95 پیسے مہنگی ہوگی، دوسرے مرحلے میں بجلی مزید ایک روپے 63 پیسے مہنگی ہوگی، حالیہ اقدامات سے توانائی شعبہ کے واجبات کو قابو کیا گیا۔ میڈیارپورٹس

کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے دوسرے تا پانچویں جائزہ مشن کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔رپورٹ میں پاکستانی معاشی کارکردگی اور مستقبل سے متعلق جائزہ پیش کیا گیا۔ رپورٹ کے تحت 2022 کے اہداف حاصل کرنے کیلئے ٹیکس اصلاحات کرنا ہوں گی۔ پاکستان کو سیلزٹیکس اور انکم ٹیکس میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ پاکستان کی موجودہ مانیٹری پالیسی درست ہے، اسٹیٹ بینک کو مزید خودمختاری دینا ہوگی۔ڈالر کا مارکیٹ ریٹ ضروری ہے۔ آئی ایم ایف نے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کے بعد جاری کردہ پانچویں جائزہ رپورٹ میں کہا کہ حکومت نے بجلی 3 روپے 34 پیسے مہنگی کرنے یقین دہانی کرائی۔پہلے مرحلے میں ایک روپے 95 پیسے بجلی مہنگی ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں بجلی مزید ایک روپے 63 پیسے مہنگی ہوگی۔ پاکستان میں حالیہ اقدامات کے باعث توانائی شعبہ کے واجبات کو قابو کیا گیا۔ سرکاری اداروں میں بہترگورننس اور شفافیت کے اقدامات کرنا ہوں گی۔ انسداد منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے ایکشن پلان پرعمل درآمد کیا جائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے قرض پروگرام کے بیشتر اہداف پر عملدرآمد کیا۔پاکستان ٹیکسوں وصولیوں میں اضافے کے اقدامات کررہا ہے۔ کورونا کی وجہ سے پاکستان نے 3 اہداف پر تاخیر سے عمل درآمد کیا۔ جنرل سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفارمز پر

عملدرآمد میں تاخیر ہوئی۔ اسی طرح دوسرے اہداف ایف ایٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد میں بھی تاخیر ہوئی۔ تیسرے اہداف بی آئی ایس پی کے مستحقین کے ڈیٹا بیس کواپ ڈیٹ کرنے میں تاخیر ہوئی۔آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان نے دواسٹرکچرل بینچ مارکس پر عملدرآمد نہیں کیا۔ پاکستان نے مزید ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہ دینے کی

شرط پرعملدرآمد نہیں کیا۔ پاکستان نے مزید ٹیکس مراعات جاری نہ کرنے کی شرط پر عملدرآمد نہیں کیا۔ پاکستان کا 2020-21 میں بجٹ خسارہ 7.1 فیصد تک رہے گا۔ رواں سال قرضوں اور واجبات کی شرح جی ڈی پی کے 92.9 فیصد تک رہے گی۔ بیرونی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کا 42.1 فیصد تک رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…