بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخاب ہو گا یا نہیں ؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا‎

datetime 2  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی انتخاب کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی اسجد ملہی کی درخواست مسترد کردی جبکہ پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم جاری کر دیا ۔جمعہ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے

قومی اسمبلی کے حلقہ  این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی انتخاب  دوبارہ کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ قانونی نقاط بیان کریں جو ضروری نوعیت کے ہیں،صرف ان دستاویزات پر انحصار کریں جن کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں منظم دھاندلی کا ذکر نہیں،الیکشن کمیشن نے منظم دھاندلی کا کوئی لفظ نہیں لکھا،الیکشن کمیشن کا فیصلہ قانون کی خلاف ورزیوں پر تھا،آئی جی پنجاب اور دیگر حکام نے فون نہیں سنے،13 پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ معطل رہی،فائرنگ کے واقعات پورے حلقے میں ہوئے،الیکشن ایکٹ کی تمام شقوں پر عملدرآمد نہ ہو تو الیکشن کالعدم تصور ہوتا ہے، حلقہ میں اس وقت کی صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن ایکٹ کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی ہوئی،عدالت کے ریکارڈ پر رکھے گئے نقشے سے واضح ہے کہ ایک بلڈنگ میں متعدد پولنگ اسٹیشن تھے، علاقے میں فائرنگ یا بدامنی کا اثر ایک نہیں بلکہ سو سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر پڑا،اگر ایک پولنگ سٹیشن کے باہر بدامنی تھی تو ایک نہیں بلکہ سو سے زائد پولنگ سٹیشن متاثر ہوئے،صورتحال سے واضح ہے کہ حلقے میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں تھی۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ڈکشنری میں لیول پلیئنگ فیلڈ کا معنی دیکھیں کیا ہے، آپ کے خیال میں ایک فریق کے لیے حالات سازگار تھے اور دوسرے کے لیے نہیں،اگر بدامنی تھی تو دونوں کیلئے حالات ناسازگار تھے،آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بدامنی تھی لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں تھی،آپ احتیاط کریں اور لیول پلیئنگ فیلڈ جیسے الفاظ استعمال نہ کریں، الیکشن کمیشن نے انتظامیہ کو سنے بغیر فیصلہ دیا،حلقے میں حالات خراب تھے یہ حقیقت ہے،یہ کہنا درست نہیں کہ تمام پارٹیوں کو مقابلے کیلئے مساوی ماحول نہیں ملا،ووٹرز کیلئے مقابلے کے مساوی ماحول کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔۔۔۔توصیف

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…