جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سینٹ میں آزاد گروپ کے رکن سینیٹر کہدہ بابر حکومتی پالیسیوں پر پھٹ پڑے، وزیراعظم سے چبھتا ہوا سوال پوچھ لیا

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) سینٹ میں آزاد گروپ کے رکن سینیٹر کہدہ بابر نے کہا ہے کہ مکران میں بجلی کے لئے پچھلے اڑھائی سال سے چیخ رہا ہوں،وفاقی وزرا ء افسر شاہی کے سامنے بے بس جبکہ سیکرٹری توانائی کسی کی بات نہیں سنتے۔تفصیلات کے مطابق سینٹ میں آزاد گروپ کا پہلاموقف سامنے آگیا۔جاری بیان کے مطابق سینیٹر کہدہ بابرحکومتی پالیسیوں پر پھٹ پڑے،انکا کہنا ہے آج بلوچستان میں بائیس شاہراہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے احتجاجا بند ہیں۔ گوادر میں بیرونی سرمایہ کاری کے تحت 50 میگاواٹ سولر پروجیکٹ کے لئے حکومت رکاوٹ

ہے۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو بڑھائیں گے۔ میرا وزیراعظم سے سوال ہے کہ متبادل توانائی کے کتنے پروجیکٹ کیے گئے ہیں؟۔گوادر میں بیرونی سرمایہ کاری کے تحت سولر پروجیکٹ کا کوئی نہیں پوچھ رہا۔میں آزاد حیثیت سے 2018 میں منتخب ہوا، لیکن میری ہمدردیاں بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ تھی۔سینیٹر کہدہ بابر نے کہا بلوچستان عوامی پارٹی میں سنیٹرزکے ساتھ قریبی تعلق ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کا رکن ہوں۔میرے لئے بینچز معنی نہیں رکھتے, عوامی مسائل میرے لئے معنی رکھتے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…