بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

حفیظ شیخ کو ہٹانا عمران خان کے گلے پڑ گیا اتحادیوں نے فیصلے کو آمریت سے تشبیہ دیدی ، بڑا مطالبہ کردیا

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو اچانک عہدے سے ہٹانے پر حکومتی اتحادیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے ،حفیظ شیخ کو ہٹانے کیلئے مناسب راستے موجود تھے تاہم ایسا طریقہ کار اختیار کرکے بے توقیری کی گئی،وزیر اعظم کے فیصلوں سے جمہوریت

نہیں آمریت جھلکتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو ہٹانے پر اتحادی جماعتوں نے سخت ناراضگی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ وزیر اعظم نے ایسے ہی فیصلے کرنے ہیں تو یہ حکومت کے لئے خطرناک ہوں گے ۔حفیظ شیخ کو بغیر اطلاع کے ہٹانا کس کے لئے پیغام ہے؟وزیر اعظم کو چاہیے تھا کہ فیصلہ کرنے سے قبل اتحادی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس بلا کر مناسب فیصلہ کرتے ۔اس سے بڑھ کر تشویش اس بات کی ہے کہ وزراء بھی اس فیصلے سے لاعلم ہیں ،ملک کے اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لینا بے توقیری ہے ،ذرائع نے مزید بتایا کہ اتحادی جماعتوں کا موقف ہے کہ حفیظ شیخ کی کارکردگی ناقص تھی تو اس کو ہٹانے کیلئے مناسب راستے موجود تھے،حفیظ شیخ کو ہٹانے کیلئے کسی شخص کو بھیج کر استعفا بھی طلب کیا جا سکتا تھا لیکن وزیر اعظم نے جس طرح حفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹایا اس کی بے توقیری کی گئی ،ایسے فیصلے جمہوریت میں نہیں آمروں کے دور میں ہو تے ہیں،اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم سے فوری طور پر وضاحتی بیان دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…