پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

قرآن مجید کی یہ سورۃ مبارک پڑھ لیں انشاء اللہ شوگر ، موٹاپا ،کینسر اندرو نی اوربیرونی بیماریاں ختم 

datetime 30  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اسوہ حسنہﷺ کامل نمونہ حیات ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے بیک وقت دینی و دنیاوی ثمرات سمیٹے جا سکتے ہیں۔ موٹاپے کے شکار جو افراد مہنگے علاج اور کڑی ورزشوں کے باوجود اس سے نجات پانے میں ناکام ہو چکے ہیں وہ اگرکھانے پینے اور ورزش کے متعلق نبی کریمﷺ کی سنت پر عمل کریں تو باآسانی اس سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔

مطابق نبی پاک ﷺ ماہِ رمضان کے علاوہ بھی کئی مواقع پر روزہ رکھتے تھے، جو کہ موٹاپا کم کرنے کے لیے اکسیر عمل ہے۔ اس کے علاوہ حضورﷺ نے ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھایا اور اسی کا حکم دیا۔ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ’جب ابھی کچھ بھوک باقی ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا کرو۔ ‘ قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’ کھاؤ اور پیو لیکن اس میں تجاوز نہ کرو، بے شک اللہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ سورة الاعراف، آیت 31‘ ۔ رسول اللہﷺ نے روزہ پانی سے کھولنے کی بھی ہدایت فرمائی، جس کا مطلب ہے کہ ہمیں خالی پیٹ پانی پینا چاہیے اور یہ بات سائنسی اعتبار سے بھی ثابت ہو چکی ہے کہ خالی پیٹ پانی پینے سے موٹاپا کم ہوتا ہے۔رسول کریمﷺ تیز قدموں کے ساتھ چلتے تھے اور یہ ایسا عمل ہے جو موٹاپے سے نجات میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں وہ ڈائٹنگ کرتے ہیں اور عموماً ناشتہ ترک کر دیتے ہیں، لیکن رسول اللہ نے فرمایا کہ ”صبح کا کھانا ضرور کھایا کرو، اس میں اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔“ بلوغ المرام، کتاب 5،حدیث681۔گویا آدمی کو کبھی ناشتہ ترک نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم ان سنتوں پر ثابت قدمی کے ساتھ عمل پیرا ہوں تو کچھ شک نہیں کہ کچھ ہی عرصے میں ہمیں موٹاپے سے نجات مل سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…