جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

آپ آصف زرداری کی مزید وکالت نہ کریں،نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان میں تلخ جملوں کا تبادلہ

datetime 27  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، اس بات کا انکشاف معروف صحافی رانا عظیم نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو نواز شریف نے فون کیا

اور نواز شریف مولانا فضل الرحمان سے سخت گلہ کرتے ہیں، نواز شریف نے کہاکہ مولانا صاحب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ پھر ہاتھ ہو گا اور یہ ہاتھ ہو گیا ہے، سینٹ کے الیکشن میں ہمارے امیدوار کو ہرایا گیا اس نے کئی موقعوں پر ہمارے ساتھ ایسا کیا ہے، ہم نے کہا تھا کہ زرداری ہمارے ساتھ نہیں ہوگا آپ زرداری کی گارنٹی دیتے تھے آپ زرداری کی ہر دفعہ کہتے تھے کہ آصف زرداری ہمارے ساتھ ہو گا، میاں نواز شریف کا مولانا فضل الرحمان سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، اس موقع پرمولانا فضل الرحمان نے کہاکہ میاں صاحب ہماری مجبوری ہے ہم نے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے اگر ہم نے آنے والے وقتوں میں حکومت پر پریشر بنانا ہے تو سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ اس پر میاں نواز شریف نے کہاکہ مولانا صاحب اب پریشر ہم ہی بنائیں گے ہمیں پتہ ہے ہم نے کیا کرنا ہے، آپ آصف زرداری کی مزید وکالت نہ کریں، میاں نواز شریف نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ جو پی ڈی ایم میں فیصلہ ہوا ہے آپ کا جو امیدوار ہو گا وہ اپوزیشن لیڈر ہو گا۔ رانا عظیم نے کہا کہ اب اگر یہ اکٹھے بھی ہوئے تو مریم نواز آصف زرداری کے ہر فیصلے کی مخالفت کرے گی۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…