بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

ورلڈکپ 92، میچ میں شکست پر نصرت فتح کی قوالی سنتے تھے، رمیز راجہ کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 25  مارچ‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)کمنٹیٹر اور 1992 کے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے رمیز راجہ نے کہاہے کہ 92 کے ورلڈکپ میں جب کسی میچ میں شکست ہوتی تھی تو ڈریسنگ روم میں نصرت فتح علی خان کی قوالی سنتے تھے۔آج کے دن کی مناسبت سے اپنے ویڈیو پیغام میں رمیز راجہ نے کہا کہ ورلڈکپ 1992 پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا سب سے سنہرا لمحہ ہے، ہماری جیت نے قوم کو جو خوشی دی وہ قابلِ دید تھی۔انہوں نے ورلڈکپ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بہت بڑا ایونٹ تھا اور ہم نے اس ایونٹ سے بہت کچھ سیکھا، ہماری ٹیم چھوٹی تھی لیکن مقصد

بڑا تھا، ہماری جیت کا مقصد اسپتال بنانا تھا۔رمیز راجہ نے کہا کہ میچز میں جب شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو ڈریسنگ روم میں نصرت فتح علی خان کی قوالی اللہ ہو گونجتی تھی، مقصد نیک اور بڑا تھا جس میں اوپر والے سے رابطہ بھی تھا۔انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت کمال کی تھی جس نے ایک چھوٹی سی ٹیم کو ایک ورلڈ چیمپئن بنا دیا۔25مارچ تمام پاکستانیوں اور خاص طور پر کرکٹ اورشائقین کرکٹ کے لیے ایک سنہرا اور یادگار دن مانا جاتا ہے کیونکہ 1992 میں اس دن پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کرکٹ کا عالمی چیمپئن بنا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…