جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا

datetime 16  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) نے 26مارچ تک لانگ مارچ مئوخر کردیا ،پیپلزپارٹی کے استعفوںسے متعلق فیصلے کا انتظار کیاجائے گا ،مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے ۔پی ڈی ایم اجلاس کے بعد پی ڈی ایم رہنمائوں مریم نواز اور یوسف رضا گیلانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جبکہ مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے ۔

تاہم مولانا فضل الرحمن نے صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کو استعفوں کے معاملے پر تحفظات تھے انہوں نے ہم سے وقت مانگا ہے اور ہم پیپلزپارٹی کے استعفوں کے حوالے سے جواب کا انتظار کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ26مارچ تک ملتوی کیا جاتا ہے ۔پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرداری نے کہاکہ میاں صاحب تشریف لائیں ہم ملکر جدوجہد کریں گے تاہم میں نے کہاکہ میاں نوازشریف کو واپس لانا ان کی زندگی کو قاتلوں کے حوالے کرنے کے مترادف ہو گا اور ان کوواپس بلا کر ہم قاتل عمران خان نیاز ی کے حوالے نہیں کرسکتے ،مسلم لیگ ، پاکستان کے عوام نہیں چاہتے کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہو ہمیں زندہ لیڈر چاہئیں ہم کواپنے لیڈر کا قتل نہیں چاہیے ،پاکستان نے پہلے بہت سے سیاسی لیڈرز کھوئے ہیں ،ہمیں نوازشریف زندہ چاہئیں۔ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہاکہ میں نے زرداری صاحب سے بڑے ادب سے عرض کیا کہ میاں نواز کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملک کومیاں نوازشریف کی صلاحیتوں اور بصیرت کی ضرورت ہے ،جس کونوازشریف سے بات کرنی ہے وہ پہلے مجھ سے بات کرے کیونکہ میں مسلم لیگ ن اورنوازشریف کی نمائندہ ہوں۔اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم کی قیادت سے گزارش کی ہے کہ ہمیں وقت دیں ، ہماری پارٹی کا مشاورتی اجلاس ہوگا جس میں استعفوں سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا تب ہم نے لانگ مارچ کو مئوخر کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی کا پہلا سیشن استعفوں کے حق میں نہیں تھا اس لئے ہم نے پی ڈی ایم سے وقت مانگا



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…