اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

بیچاری غریب عوام جائے تو جائے کہاں۔۔۔۔ بجلی صارفین پر مزید ایک ہزار 60 ارب کا بوجھ منتقل کرنے کی تیاریاں

datetime 16  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے سرکلر ڈیبٹ کے موثر انتظام کو یقینی بنانے کیلئے پاور ڈویژن کی پیش کردہ سمری کی منظوری دیدی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس ہوا جس میں

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ، معاون خصوصی پٹرولیم، معاون خصوصی پاور اور ریونیو اور مختلف وزارتوں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں جامع سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان 2021 کے خلاصہ پر تبادلہ خیال کیا ،گردشی قرض سے نمٹنے کیلئے مالی سال2020ـ21 سے مالی سال 2022ـ23 تک کے تین سال کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے ، گردشی قرض کو حل کرنے کے طریقہ کار اور اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے ، منصوبے میں گردشی قرض پر قابو پانے کے ایکشن پلان کی تجویز پیش کی گئی۔کمیٹی نے سرکلر ڈیبٹ کے موثر انتظام کو یقینی بنانے کے لئے پاور ڈویژن کی پیش کردہ سمری کی منظوری دے دی ، کمیٹی نے حکومت کی طرف سے منظور شدہ قابل تجدید ذرائع توانائی پالیسی پر عمل درآمد کے مخلتف ایکشن پلان پر بھی تبادلہ خیال کیا ،کمیٹی نے وزارت توانائی کو قابل تجدید توانائی منصوبوں کی نیلامی کے لئے کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی ۔نجی ٹی وی کے مطابق

مجوزہ منصوبے کے تحت مالی سال23-2022تک گردشی قرض میں اضافہ صفرہوجائیگا،اس کے لئے سوا دو برسوں میں فی یونٹ بجلی چار روپے60 پیسے مہنگی کرنے کی تجویز ہے،رواں مالی سال بجلی مہنگی کرکے40ارب روپے حاصل کیے جائیں گے۔مالی سال 22-2021

میں بجلی مہنگی کر کے 458ارب روپے صارفین سے ملیں گے اور مالی سال 23-2022میں صارفین پر مزید 562ارب روپے کا بوجھ منتقل ہوگا۔منصوبے کے مطابق آزاد کشمیرحکومت کو دی جانے والی بجلی سے 96ارب اضافی آئیں گے،بجلی وصولیوں میں بہتری سے 204ارب روپے

اضافی آئیں گے، بجلی نقصانات میں کمی سے130ارب روپے کی بچت ہوگی،کے الیکٹرک سے303ارب روپے ملیں گے،مجوزہ منصوبے کے تحت پاور سیکٹرکو 378ارب روپے کی اضافی سبسڈی کو وفاقی بجٹ کاحصہ بنایاجائیگا، پاورہولڈنگ کمپنی کے قرض کے68 ارب روپے سرکاری قرض میں منتقل ہوجائیں گے، مجوزہ پلان کی منظوری ای سی سی اور وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…