جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

گیلانی کے نام پر مہر لگانے والے 7 سینیٹرز پارٹی کے سامنے پیش مقصد کیا باور کروانا تھا؟ نجی ٹی وی کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 14  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میںپی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگانے والے 7 سینیٹرز خود پارٹی کے سامنے پیش ہوگئے، پیپلزپارٹی کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری

اور بلاول بھٹو زرداری کو پیش گئی رپورٹ کے مطابق ارکان نے بتایا کہ اس عمل میں کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی، وہ پارٹی کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ان کا ووٹ یوسف رضا گیلانی کو ہی پڑا ہے تاہم ان ارکان کے نام کوصیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔ ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل ان سات ارکان نے الیکشن کے عملے سے ووٹنگ کا طریقہ پوچھا۔ جس پر الیکشن کمیشن کے عملے نے انہیں بتایا کہ ڈبہ میں نام پرمہرلگانی ہے ،ساتوں ارکان اب خود سامنے آئے ہیں اور انہوں نے یہ بیان ریکارڈ کرایا ہے۔ دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل انور منصورخان نے کہا ہے کہ مسترد شدت ووٹ کامعاملہ آرٹیکل 69 کے تحت عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ایک انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ اگر ووٹ پر کوئی نشان لگ جائے جس سے ووٹ قابل شناخت ہو تو وہ ووٹ مسترد ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت معاملہ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے2007 میں ایک کیس کے فیصلے میں کہا تھا

کہ ووٹر کی نیت اگر کسی بھی طرح ظاہر ہوجائے تو اس کو رد کیا جا سکتا ہے اور 2013 میں بھی ایک کیس میں ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہاکہ سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ ہونا چاہیے تھا،جب میں نے بیلٹ پیپر نہیں دیکھا تھا تو اس میں ابہام موجود تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر نام پر مہر لگائی جائے تو وہ ووٹ مسترد نہیں ہوتا،پریذائیڈنگ آفیسر کی رولنگ سن کر افسوس ہوا۔ اشتر اوصاف نے کہا کہ آرٹیکل199کے تحت عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…