بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سری لنکا میں میتوں کی تدفین مفتی تقی عثمانی کی وزیراعظم کی کاوشوں کی تعریف

datetime 1  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سری لنکا میں مسلمان میتوں کی تدفین کی اجازت عمران خان کی کاوش ہے،تفصیلات کے مطابق مفتی تقی عثمانی نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ الحمد للہ سری لنکا میں مسلمان میتوں کو جلانے کے ظالمانہ قانون کو منسوخ کرنے اور اسلامی طریقے پر دفن کرنے کا جو مطالبہ پوری امت کی طرف سے ہورہا تھا وزیر اعظم عمران خان صاحب

کی خصوصی کوششوں سے وہ مان لیا گیا اور اسکا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا مبارک ہو۔یاد رہے کہ سری لنکا کی حکومت نے جمعرات کو کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو جلائے جانے کے حکم کو تبدیل کیا اور اب ان افراد کی آخری رسومات کو، تدفین اور جلایا جانا، دونوں طریقوں سے ادا کیا جا سکے گا۔سری لنکا کے وزیر صحت نے جمعرات کی شب ایک ترمیمی گزٹ جاری کیا جس میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین اور جلائے جانے، دونوں کی اجازت دی گئی۔سری لنکن وزیر صحت پوترا ونیاراچے کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ مرنے والے کو ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کی ہدایات کے مطابق دفن کیا جائے گا اور اس کے لیے جگہ کی تصدیق اور نگرانی بھی متعلقہ ادارے کی جانب سے کی جائیگی۔وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹ میں سری لنکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ میں سری لنکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور سری لنکا کی حکومت کے سرکاری نوٹیفکیشن کا

خیرمقدم کرتا ہوں جو کووڈ 19 میں مرنے والوں کو تدفین کی اجازت دیتا ہے۔سری لنکا میں کورونا وائرس سے متاثر ہو کر مرنے والوں کو جلانے کے حکمنامے کے باعث انسانی حقوق کے اداروں،اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس اقدام پر

مسلمان، کیتھولک اور بدھ مت نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے کورونا متاثرہ افراد کی تدفین کی اجازت ملنے پر سری لنکا کے شہریوں نے بھی وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کے دورے سے ہمارے لیے آسانی پیدا ہوئی۔وزیر اعظم عمران خان نے سری لنکن قیادت سے اس مسئلہ پر بات کی تھی جس کے بات سری لنکا کے وزیر اعظم نے عمران خان کوجلد حل کی یقین دہانی کروائی تھی جس پر عمران خان نے سری لنکن قیادت کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…