بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا سری لنکا کے لیے امداد کا اعلان ،پاکستانی حیران پریشان

datetime 26  فروری‬‮  2021 |

کولمبو (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی ترجیجات کو جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت کی طرف تبدیل کردیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سری لنکا کے ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات بہت اچھے رہے ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہیں کہ جب یہاں دہشت گردی عروج پر تھی تو ان کے ساتھ کوئی ملک کھڑا تھا تو وہ پاکستان تھا

اور انہیں کامیابی ہوئی اور انہوں نے دہشت گردی کو شکست دی۔انہوں نے کہا کہ وہ اس کا سہرا پاکستان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں کہ پاکستان کی امداد کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا، ہماری کچھ عرصے سے ان سے رابطے رہیں ہیں، سیاسی طور پر بات چیت ہوئی ہے، ہم ان سے اپنے رابطے بڑھاتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی فورم، اقوام متحدہ میں ہمارا تعاون بہت اچھا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ چونکہ اب ہم معاشی سلامتی کی طرف توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور ہماری منتقلی جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف ہے تو ہم سری لنکا کے ساتھ معاشی بنیاد کو وسعت دیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری دو طرفہ تجارت محدود ہے، اس دورے کے دوران ہمارا یہ تبادلہ خیال ہوا ہے کہ ہم نے اپنی اقتصادی رابطوں، تجارت کو کیسے بڑھانا ہے، سرمایہ کاری کو کیسے فروغ دینا ہے، اس کے علاوہ سیاحت کے شعبے میں بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس کے علاوہ دفاعی سطح پر تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال ہورہا ہے، ہم نے 15 ملین (ڈیڑھ کروڑ) ڈالر کی ایک کریڈٹ لائن کی پیشکش کی ہے، اس کے علاوہ تربیت اور استعداد کار بڑھانے کیلئے بھی ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر ہمارا تعاون رہا ہے اور ہم اس میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سری لنکا کا تعلیم میں خواندگی کی سطح بہت اچھی ہے تاہم طب اور طبی شعبے میں تعلیم میں پاکستان ان کی مدد کرسکتا ہے اور ہم نے انہیں ملک کی اعلیٰ طبی جامعات میں 100 اسکالر شپ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مختلف معاملات پر بھی بات چیت ہورہی ہے اور ہم یہ دیکھیں گے کہ خطے میں سارک کو کس طرح فعال کرسکتے ہیں اور سارک میں ہم اپنے تعاون میں کس طرح بہتری لاسکتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم نے سری لنکا میں کینڈی میں سب سے قدیم جامعہ میں ایک ثقافتی سینٹر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ کھیلوں کے میدان میں ہم ان کی مدد کر رہے ہیں جبکہ کووڈ 19 پر بھی ہم ان سے تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں، مزید یہ کہ ہم نے کچھ ایسی چیزیں جو پاکستان میں بنائی ہیں وہ ان سے شیئر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات بہت مفید رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…