بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

ویڈیو گیمز لڑکوں میں کس چیزکا خطرہ کم کرتی ہیں؟ برطانیہ میں ہونیوالی طبی تحقیق سامنے آگئی

datetime 22  فروری‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)11 سال کی عمر میں ویڈیو گیمز کھیلنے کے عادی لڑکوں میں آنے والے برسوں میں ڈپریشن کا خطرہ کم ہوتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔لندن کالج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جو بچیاں اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتی ہیں، ان میں ڈپریشن کی علامات کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

دونوں کو اکٹھا کیا جائے تو نتائج سے پتا چلتا ہے کہ اسکرین کے سامنے مختلف انداز سے گزارے جانے والا وقت کس طرح بچوں کی ذہنی صحت پر مثبت یا منفی انداز سے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔جریدے سائیکولوجیکل میڈیسین میں شائع تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ اسکرینوں سے ہمیں مختلف اقسام کی سرگرمیوں کا حصہ بننے کا موقع ملتا ہے، اس حوالے سے گائیڈلائنز یہ مدنظر رکھ کر مرتب کرنی چاہیے کہ مختلف سرگرمیاں کس حد تک ذہنی صحت پر اثرات مرتب کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم یہ تصدیق نہیں کرسکتے کہ گیمز کھیلنے سے ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے، تاہم نتائج سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ اتنی نقصان دہ عادت نہیں بلکہ اس کے کچھ فوائد بھی ہیں، بالخصوص وبا کے دوران۔انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو گیمز بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک سماجی پلیٹ فارم ثابت ہوسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بچوں اور بالغ افراد کے بیٹھنے کے وقت کا دورانیہ کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جسمانی اور ذہنی صحت ٹھیک رہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسکرینیں بذات خود نقصان دہ ہیں۔اس تحقیق میں 11 ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا جن پر 2000 سے 2002 کے درمیان ایک تحقیق کی گئی تھی۔ان بچوں سے سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز کھیلنے یا انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تھے جبکہ 14 سال کی عمر میں ان میں ڈپریشن کی علامات کو جاننے کی بھی کوشش کی گئی۔تحقیق ٹیم نے دیگر عناصر جیسے سماجی و معاشی حیثیت، جسمانی سرگرمیوں کی سطح اور دیگر کو بھی مدنظر رکھا تھا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لڑکے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنے کے عادی ہوتے ہیں ان میں اگلے 3 برسوں میں ڈپریشن کی علامات کا خطرہ 24 فیصد تک کم ہوتا ہے۔یہ فائدہ جسمانی طور پر کم متحرک لڑکوں میں زیادہ نظر آیا جبکہ لڑکیوں میں ایسا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔محققین کا کہنا تھا کہ ویڈیو گیمز کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں جو ذہنی صحت کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جو بچیاں 11 سال کی عمر میں اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گارتی ہیں، ان میں 3 سال بعد ڈپریشن کی علامات کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔محققین انٹرنیٹ کے عام استعمال اور ڈپریشن کی علامات کے درمیان کوئی واضح تعلق دریافت نہیں کرسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…