اسلام آباد (نیوزڈیسک)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا ابتدائی مرحلہ مکمل ہوچکا ہے علاقے کو مکمل طور پر کلیئرکرنے کیلئے دوسرا مرحلہ شروع کیا جائیگا ۔ جاری آپریشن کے مکمل ہونے کا ٹائم فریم نہیں دے سکتے،ا چھی پیش رفت ہو رہی ہے اور ساتھ ساتھ مقاصد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔فوج اور مقامی لوگ شدت پسندوں کو نہ تو کسی بھی صورت میں واپس آنے دیں گے اور نہ ہی ان کےساتھ کسی قسم کا معاہدہ ہوگا ، لوگوں کے دل ودماغ جیتنا ایک دو دن کا کام نہیں ہے۔ ہم مل کر جب اس علاقے کو اچھا بنائینگے تو یہ مرحلہ بھی مکمل ہو جائیگا ان علاقوں کی بحالی کیلئے 80 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ۔ بجٹ میں بحالی کے کاموں کیلئے پیسے رکھے گئے ہیں، فوج نے فوری طور پر بحالی کا کام خود شروع کر دیاہے۔ واپس لے جا ئے جانے والے افرادکو سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ شوال میں جب مزید کارروائیاں ہونگی تو کچھ مزاحمت کا امکان ہوسکتا ہے، ان تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنا ہے، کچھ طریقوں سے پہلے سے وہاں کام جاری ہے،ابتدائی مرحلے کے بعد اب ہر صورت میں آگے جانا ہے۔ این این آئی کےساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے مکمل ہونے کا ٹائم فریم نہیں دے سکتے، اس وقت اچھی پیش رفت ہو رہی ہے اور ساتھ ساتھ مقاصد حاصل ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ فوج نے بار بار کہا ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے اس آپریشن کو مکمل کرنا چاہتے ہیں، ایک منصوبے کے مطابق آپریشن ضرب عضب جاری ہے، شوال کے علاقے میں ابتدائی آپریشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکاہے، انہوں نے کہا کہ شوال دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا تھا ۔ پہلے مرحلے میں فوج کو کچھ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، ہم نے دہشت گردوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور مزاحمت کی وجہ سے ہمیں بھی تھوڑا بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہاکہ شوال میں جب مزید کارروائیاں ہونگی تو کچھ مزاحمت کا امکان ہوسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ فوج نے آگے جانا ہے اور ان تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنا ہے،کچھ طریقوں سے پہلے سے وہاں کام جاری ہے اور ابتدائی مرحلے کے بعد اب ہر صورت میں آگے جانا ہے، اس سوال کہ شوال کے علاوہ کون سی جگہوںپر ابھی مزاحمت کا امکان ہوسکتا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شوال کی پٹی کے ساتھ دتہ خیل سے نیچے نیچے ایسا علاقہ ہے جہاں دوسرے علاقوں سے بھاگنے والے جمع ہوگئے تھے اور یہاں کچھ مزاحمت کا امکان ہوسکتا ہے ، انشاءاللہ سارے علاقوں کو کلیئر کیا جائیگا ،واضح رہے کہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے شوال کے علاقے میں اس لئے پناہ لی ہے تاکہ یہاں جنگل اور پہاڑ ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کی فضائی کارروائی سے بچا جاسکے۔ این این آئی کے ایک اور سوال کے جواب میںپاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ شمالی وزیرستان کلیئر ہونے کے بعد فوج اور مقامی لوگوں کا اتفاق ہے کہ شدت پسندوں کو کسی بھی صورت میں واپس نہیں آنے دیا جائیگا، لوگوں کا خیال ہے کہ ایک دفعہ ان سے جان چھوٹ گئی ہے اب ریاست پاکستان کی پوزیشن بہت واضح ہے کوئی بھی ان کی حمایت نہیں کریگا ان کےساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ نہیں ہوگا ۔ طالبان کے واپس آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ فوجی آپریشن کے ساتھ کیا فوج نے عام متاثرین کے دل جیتنے کیلئے بھی کوئی منصوبہ بندی کی ہے تو عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ لوگوں کے دل ودماغ جیتنا ایک دو دن کا کام نہیں ہے، یہ ہمارے لوگ ہیں، ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے اپنے خاندان ہیں، غیور قبائلی عوام ہیں، ساری عمر ہم نے ان پر فخر کیا ہے اور ہم مل کر آگے چلیں گے، مجھے یقین ہے کہ یہ دو چار دن کا کام نہیں ہے اور آگے ہم مل کر جب اس علاقے کو اچھا بنائینگے تو میرا خیال ہے کہ دل اور دماغ جیتنے والا مرحلہ بھی مکمل ہو جائیگا، بے گھر افراد کی واپسی سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ شمالی وزیرستان سمیت تمام قبائلی علاقوں میں بے گھر افراد کی واپسی کیلئے ایک جامع پروگرام بنایا گیا ہے اورجوپہلے ہی شروع ہوچکا ہے، انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں کم لوگ واپس گئے ہیں لیکن اگلے مرحلے میں زیادہ لوگ واپس جائینگے، نوے فیصد علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر ہوچکا ہے لیکن اس علاقے میں کافی عرصے سے ریاست کی عملداری نہیں رہی تھی ، انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا اور ہمارا خیال ہے کہ لوگوں کی واپسی سے پہلے حکومت سے مل کر ایسا پلان بنایا جائے تاکہ لوگ بہتر گھروں کو واپس جائیں، وہاں سہولیات بہتر ہوں اور ایک جامع ترقیاتی پروگرام ہو، انہوں نے کہا کہ پہلے ان علاقوں کی بحالی کیلئے تقریبا 80 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور بجٹ میں بھی اس مرتبہ بحالی کے کاموں کیلئے پیسے رکھے گئے ہیں، حکومت نے وہ پیسہ فراہم کرنا ہے۔بحالی کیلئے سروے شروع ہوچکا ہے، فوج نے فوری طور پر بحالی کا کام خود شروع کر دیاہے جن لوگوں کو واپس لے جایا جارہا ہے ان کو سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں، انہوں نے کہا کہ واپس جانا اتنا آسان کام نہیں ہے، بنوں میں فائرنگ کے نتیجے میں دو بے گھر افراد کی ہلاکت کی تحقیقات سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ تھا لیکن اس کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی گئی ہے اور اس کی تحقیقات ہو رہی ہے اور اس کے نتائج بھی سامنے آئینگے۔
شدت پسندوں کیساتھ امن معاہدہ،پاک فوج نے تمام افواہوںکا واضح جواب دیدیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)
-
پیٹرول سبسڈی لینے والوں کےلیےخوشخبری، وزیراعظم کا اہم اعلان
-
تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
طالبہ لائبہ کا خودکشی سے قبل والد کیلیے ماموں کے موبائل پر بھیجا گیا آخری پیغام سامنے آگیا
-
طالبہ لائبہ سے فراڈ کرنے والے ملزم کی ابتدائی شناخت سامنے آگئی
-
پی ٹی اے نے موبائل سگنلز کی کمی کی صورت میں کالز کرنے کے لیے آسان حل بتا دیا
-
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گرفتار
-
عمان میں ملازمت کے خواہشمند غیر ملکیوں کیلئے خوشخبری
-
سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی سہولت متعارف
-
راولپنڈی: لاہور سے دادی کے ہمراہ شادی میں شرکت کیلئے آنے والی 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی
-
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ایک ساتھ لگانے کا فیصلہ
-
اسلام آباد سے گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی لاش ملنے کا واقعہ: اہل خانہ نے اہم انکشافات کردیے
-
’ڈئیر پرائم منسٹر امبانی‘ ایلون مسک کے بیان نے بھارتی سیاست میں ہلچل مچا دی



















































