بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی انجینئر کی پی ایس ایل میں اسٹیڈیم کو ڈرون کے ذریعے سینیٹائز کرنے کی پیشکش

datetime 19  فروری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)نیشنل انکوبیشن سینٹر کراچی سے وابستہ نوجوان انجینئر نے پی ایس ایل مقابلوں کے دوران اسٹیڈیم کو ڈرون کے ذریعے سینیٹائز کرنے کی پیش کش کی ہے۔پاکستان میں سول مقاصد کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کو عام کرنے والے باصلاحیت نوجوان سید عظمت نے پاکستان کرکٹ بورڈ، کراچی کی انتظامیہ اور سندھ حکومت کو پیش کش کی ہے کہ وہ پاکستان میں تیار کردہ

ہیوی لوڈ اٹھانے والے ڈرونز کے ذریعے پی ایس ایل کے میچز کے دوران کرکٹ اسٹیڈیمز کو سینیٹائز کرسکتے ہیں۔سید عظمت نے کہا کہ ڈرون سے اسٹیڈیم کو سینیٹائز کرنے کی صورت میں پاکستان یہ ٹیکنالوجی کھیلوں کے لیے موثر انداز میں استعمال کرنے والا پہلا ملک بن جائے گا، ساتھ ہی دنیا کے سامنے ڈرون ٹیکنالوجی میں پاکستان کی مہارت بھی اجاگر کی جاسکے گی۔سید عظمت نے کہاکہ ڈرون کی مدد سے کرکٹ اسٹیڈیم کے ایک ایک چپے کو انتہائی درستگی کے ساتھ سینٹائز کیا جاسکتا ہے۔ اس تکنیک کا عملی  مظاہرہ جمعرات کو این ای ڈی یونیورسٹی میں واقع این آئی سی سے ملحقہ گرانڈ کو سینیٹائز کرکے بھی کیا جاچکا ہے۔سید عظمت نے دعوی کیا کہ نیشنل اسٹیڈیم کو ان کے تیار کردہ جدید ڈرون سے سینیٹائز کرنے میں ایک گھنٹہ لگے گا اور آپریشنل لاگت بھی روایتی طریقے کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوگی۔انہوں نے کہاکہ پی ایس ایل ایک موثر پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے دنیا میں پاکستان کی ٹیکنالوجی پر دسترس اور نوجوانوں کا ٹیلنٹ بھی موثر طریقے سے اجاگر کیا جاسکتا ہے، میدان میں ڈرون کے ذریعے ٹرافی لانے کا تجربہ بھی آج تک کسی ملک میں نہیں کیا گیا۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ڈرون کے ذریعے فٹ بال کے میچ کے لیے کھیل کے میدان کو صرف ایک مرتبہ برطانیہ میں گزشتہ سال سینیٹائز کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ پی ایس ایل اسپانسر کرنے والی کمپنیاں بھی شائقین تک انعامات پہنچانے کے لیے ڈرون استعمال کرسکتی ہیں، ان تمام طریقوں سے پی ایس ایل کے میچز میں انسانی مداخلت کو کم سے کم رکھنے میں مدد ملے گی اور پاکستان کورونا کے خلاف جدوجہد میں ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے والے سرفہرست ملک کا درجہ حاصل کرلے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…