بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ انتخابات، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کون کس پر حاوی، کس کے حصے میں کتنی نشستیں؟ تہلکہ خیز رپورٹ

datetime 6  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ انتخابات 2021 پی ٹی آئی کے 28 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بننے کا امکان ہے اور پیپلز پارٹی کے 19 نشستوں کے ساتھ دوسری جب کہ مسلم لیگ (ن) کا 18 نشستوں کے ساتھ تیسری جماعت بننے کا امکان ہے۔اس بار سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، فاٹا کی نشستوں پر

انتخابات نہیں ہوں گے جس کے باعث سینیٹ کی نشستیں 104 سے کم ہو کر 100 رہ جائیں گی۔ سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کی21 نئی نشستیں آنے کا امکان ہے، پی ٹی آئی کی سینیٹ میں موجودہ 14 نشستیں ہیں اور 7 ارکان ریٹائر ہوں گے، پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا سے 10، پنجاب سے 6، اسلام آباد سے 2، سندھ سے 2 اور بلوچستان سے ایک نشست ملنے کا امکان ہے۔مسلم لیگ (ن) کی سینیٹ میں نشستیں 30 سے کم ہو کر 18 رہ جائیں گی اور مسلم لیگ (ن) کی سینیٹ میں صرف پنجاب سے 5 نئی نشستیں آنے کا امکان ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں نشتیں 21 سے کم ہو کر 19 رہ جائیں گی اور پیپلز پارٹی کو سندھ سے 6 نئی نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ایم کیو ایم کی سینیٹ میں نشستیں 5 سے کم ہو کر 3 رہ جائیں گی، خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے باعث فاٹا سے سینیٹ میں کوئی نئی نشست نہیں آئے گی، فاٹا سے سینیٹ میں ارکان کی تعداد 4 رہ جائے گی۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینٹرز کی تعداد 5 ہونے کا امکان ہے اور جماعت اسلامی کا سینیٹ میں ایک رکن رہ جائے گا۔پی ڈی ایم کی جماعتیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اتحاد کرکے ایک ایک مزید نشست حاصل کر سکتی ہیں، اے این پی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اتحاد حمایت سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک نشست اور بلوچستان اسمبلی میں ایم

ایم اے، بی این پی مینگل، پی کے میپ اور اے این پی اتحاد سے ایک نشست جیت سکتی ہے۔سینیٹ میں نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی نشتیں 2، 2 رہ جائیں گی۔جی ڈی اے کی سندھ سے ایک نشست آنے کی صورت میں ارکان کی تعداد 2 ہو جائے گی جب کہ بی این پی مینگل کے پاس 2 نئی نشستیں آنے کا امکان ہے۔ بلوچستان

عوامی پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی چوتھی بڑی جماعت بن جائے گی۔ انتخابات کے بعد سینیٹ میں نشستوں کی تعداد 104 سے کم ہو کر 100 رہ جائے گی، سینیٹ میں اس مرتبہ 48 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔سینیٹ انتخابات 2021 کے بعد حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 49 ہونے کا امکان جب کہ اپوزیشن ارکان کی تعداد 51 ہونے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…