بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

کراچی ، اسلام آباد کے ریڈار خراب ، محکمہ موسمیات محض رسمی کارروائی کا ادارہ بن گیا

datetime 11  جولائی  2015 |

لاہور/ کراچی/ اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستانی محکمہ موسمیات کوپریشانی لاحق, عوام کاکیابنے گا. قدرتی آفات کا قبل از وقت پتہ چلانے والا قائم محکمہ موسمیات محض رسمی کارروائی کا ادارہ بن گیا ، کراچی ، اسلام آباد کے موسمی ریڈار خراب ہوگئے۔پاکستان میں قدرتی آفات کا قبل از وقت پتہ چلانے والا قائم محکمہ موسمیات محض رسمی کارروائی کا ادارہ بن گیا ہے ۔ کراچی میں 25 سال قبل نصب کردہ موسمیاتی تغیرات مانیٹر کرنے والا ریڈار اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے ، ریڈار ناکارہ ہونے کی وجہ سے تازہ ترین موسمی صورتحال کے بارے میں تمام معلومات اسلام آباد میں 24 گھنٹے کام کرنیوالے ریڈار سے ہی حاصل کی جاتی ہیں جبکہ اسلام آباد میں لگا ریڈار بھی خراب پڑا ہے ۔ حال ہی میں پشاور میں محکمہ موسمیات کا کوئی موثر سسٹم نصب نہ ہونے کی وجہ سے طوفانی بارشوں کی وجہ سے بروقت اطلاعات اور اقدامات نہ ہونے کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع سمیت بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ موسمیات کے پاس موجود سسٹم اپ ڈیٹ نہیں ہے ۔ پاکستان میں اس وقت 7 مقامات لاہور، سیالکوٹ، منگلا، رحیم یار خان، ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد اور کراچی میں ریڈار موجود ہیں جن کی مالیت ڈیڑھ ارب روپے سے زائد ہے ۔ موسمی حالات اور سیلاب کی صورتحال بتانے والے ایک ریڈار کی قیمت 25 کروڑ روپے سے زائد ہے جس میں لگے میگنٹ ٹران کی لائف پانچ سے چھ ہزار گھنٹے ہوتی ہے ، مسلسل چلنے سے میگنٹ ٹران کی قوت میں کمی ہو جاتی ہے ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل نیپال، بھارت اور بنگلہ دیش کے بعض حصوں میں آنیوالے زلزلے کے جھٹکے پاکستان میں لاہور سمیت مختلف شہروں میں بھی محسوس کئے گئے تاہم محکمہ موسمیات کے پاس حساس اور جدید سسٹم نہ ہونے کے باعث پاکستان میں زلزلے کے جھٹکوں کی شدت کو ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…