جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا

datetime 4  فروری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم )نے حکومت کیخلاف 26مارچ سے لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سینیٹ الیکشن اکٹھے لڑنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ، تحریک عدم اعتماد اور استعفوں پر سینیٹ الیکشن کے بعد دوبارہ غور ہوگا۔جمعرات کو اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کا سربراہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، احسن اقبال، مریم اورنگزیب اور رانا ثنا اللہ شریک ہوئے۔پیپلز پارٹی کی جانب سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، یوسف رضا گیلانی ، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں شریک دیگر رہنماوں میں امیر حیدر ہوتی، آفتاب شیر پاو، محمود خان اچکزئی، اکرم درانی، اویس نورانی، پروفیسر ساجد میر اور ڈاکٹر مالک بھی شامل تھے ۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دینے کا فیصلہ کیا جبکہ مہنگائی مارچ کی تاریخ سے متعلق مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے رہنمائوں نے بلاول بھٹو کو بختاور بھٹو کی شادی کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اتحاد نے حکومت کیخلاف لانگ مارچ کرنے پر اتفاق کیا جبکہ سینیٹ الیکشن اکٹھے لڑنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم نے 26 مارچ سے لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو قائل نہ کرسکی۔ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد اور استعفوں پر سینیٹ الیکشن کے بعد دوبارہ غور ہوگا۔لانگ مارچ

کے مجوزہ شیڈول کے مطابق ملک بھر سے قافلے 20 سے 25 مارچ کو نکلنا شروع ہوں گے، فیض آباد پہنچنے کی تاریخ یکم اپریل مقرر ہوگی، فیض آباد میں تمام قافلے اکٹھے ہوکر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔اجلاس سے قبل گفتگو میں مریم نواز نے کہا کہ استعفے یا تحریک عدم اعتماد سے متعلق فیصلے پی ڈی ایم کریگی،حکمرانوں

نے سینیٹ الیکشن میں خود ووٹ توڑے بھی اور خریدے بھی، حکمرانوں کو ووٹ توڑتے اور خریدنے کے وقت اوپن بیلٹ کیوں یاد نہیں آیا؟۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اب ایم این ایز اورایم پی ایز ساتھ چھوڑنے کو تیار ہیں، جس پر حکومت کو شو آف ہینڈ یاد آ گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمران جماعت کے ممبران کا اپنی پارٹی پر اعتماد نہیں رہا ہے، چیئرمین سینیٹ کے لیے ہارس ٹریڈنگ کے وقت اوپن بیلٹنگ کیوں یاد نہیں آئی؟۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…