اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا

datetime 4  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم )نے حکومت کیخلاف 26مارچ سے لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سینیٹ الیکشن اکٹھے لڑنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ، تحریک عدم اعتماد اور استعفوں پر سینیٹ الیکشن کے بعد دوبارہ غور ہوگا۔جمعرات کو اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کا سربراہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، احسن اقبال، مریم اورنگزیب اور رانا ثنا اللہ شریک ہوئے۔پیپلز پارٹی کی جانب سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، یوسف رضا گیلانی ، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں شریک دیگر رہنماوں میں امیر حیدر ہوتی، آفتاب شیر پاو، محمود خان اچکزئی، اکرم درانی، اویس نورانی، پروفیسر ساجد میر اور ڈاکٹر مالک بھی شامل تھے ۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دینے کا فیصلہ کیا جبکہ مہنگائی مارچ کی تاریخ سے متعلق مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے رہنمائوں نے بلاول بھٹو کو بختاور بھٹو کی شادی کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اتحاد نے حکومت کیخلاف لانگ مارچ کرنے پر اتفاق کیا جبکہ سینیٹ الیکشن اکٹھے لڑنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم نے 26 مارچ سے لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو قائل نہ کرسکی۔ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد اور استعفوں پر سینیٹ الیکشن کے بعد دوبارہ غور ہوگا۔لانگ مارچ

کے مجوزہ شیڈول کے مطابق ملک بھر سے قافلے 20 سے 25 مارچ کو نکلنا شروع ہوں گے، فیض آباد پہنچنے کی تاریخ یکم اپریل مقرر ہوگی، فیض آباد میں تمام قافلے اکٹھے ہوکر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔اجلاس سے قبل گفتگو میں مریم نواز نے کہا کہ استعفے یا تحریک عدم اعتماد سے متعلق فیصلے پی ڈی ایم کریگی،حکمرانوں

نے سینیٹ الیکشن میں خود ووٹ توڑے بھی اور خریدے بھی، حکمرانوں کو ووٹ توڑتے اور خریدنے کے وقت اوپن بیلٹ کیوں یاد نہیں آیا؟۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اب ایم این ایز اورایم پی ایز ساتھ چھوڑنے کو تیار ہیں، جس پر حکومت کو شو آف ہینڈ یاد آ گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمران جماعت کے ممبران کا اپنی پارٹی پر اعتماد نہیں رہا ہے، چیئرمین سینیٹ کے لیے ہارس ٹریڈنگ کے وقت اوپن بیلٹنگ کیوں یاد نہیں آئی؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…