ینگون (این این آئی) میانمار میں ایک روز قبل فوج کی بغاوت کے وقت پارلیمنٹ کے سامنے ڈانس کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں اس کے چرچے ہیں۔میانمار میں یکم فروری کو فوج نے بغاوت کرکے عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر حکمران جماعت نیشنل لیگ برائے ڈیموکریسی پارٹی (این ایل ڈی) کی سربراہ آنگ
سانگ سوچی سمیت اہم رہنمائوں کو گرفتار کرکے ایک سال کے لیے مارشل لا نافذ کیا تھا۔جس وقت میانمار کی فوج بغاوت کیلئے پارلیمنٹ میں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گھس رہی تھی، عین اس وقت پارلیمنٹ کے سامنے ایک خاتون ڈانس انسٹرکٹر معمول کے مطابق آن لائن کلاسز کیلئے ڈانس کر رہی تھیں۔ ویڈیو میں فوجی بغاوت اور فوجی گاڑیوں کی غیر معمولی نقل و حرکت سے بے خبر خاتون ڈانسر کو اپنی ہی دھن میں مگن ہوکر ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ابتدائی طور پر خاتون ڈانسر کو اس بات کا احساس نہیں تھا، تاہم جب انہوں نے مذکورہ ویڈیو فیس بک پر شیئر کی اور کچھ ہی گھنٹوں میں انہیں معلوم ہوا کہ ملک میں فوج نے بغاوت کی ہے تو ان کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔خاتون ڈانسر کی ویڈیو کو دنیا بھر کے مشہور صحافیوں، نقادوں، سیاسی رہنمائوں اور نشریاتی اداروں نے دکھایا، چلایا اور شیئر کیا، جس وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے ڈانسر دنیا بھر میں مقبول ہوگئیں۔ واضح رہے کہ فوجی بغاوت کے بعد میانمار میں رہ جانے والے روہنگیا مسلمانوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوجی بغاوت روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کو مزید خراب کرے گی، میانمار میں 6
لاکھ روہنگیا بدستور موجود ہیں۔ سال 2017 میں میانمار فوج نے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا جس کے بعد سات لاکھ روہنگیا بنگلہ دیش ہجرت کر گئے تھے۔واضح رہے میانمار میں فوج نے گزشتہ روز ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، آنگ سان سوچی سمیت کئی دیگر اہم رہنما گرفتار کر لیے گئے۔ فوج نے ایک سال کے لیے ہنگامی
حالت نافذ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب امریکاکے صدر جو بائیڈن نے میانمار میں مارشل لا کی مذمت کرتے ہوئے پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر بائیڈن کے جاری کیے گئے بیان میں میانمارمیں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے خاتمے اور فوج بغاوت کو ملک میں
جمہوریت اور قانون و انصاف پر براہ راست حملہ قرار دیا گیا ہے۔صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی برادری کو مل کر برما کی فوج پر اقتدار واپس منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے، سیاسی قیدیوں اور سول حکام کی رہائی کے لیے دبائو ڈالنا چاہیے۔ بیان میں برمی فوج پر ٹیلی کمیونیکیشن ذرائع پر عائد کی گئی پابندیاں اور شہریوں
کے خلاف پْرتشدد کارروائیاں ختم کرنے کے لیے بھی زور دیا ہے۔عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ برما میں فوجی بغاوت سے بائیڈن حکومت کو ایشیا پیسیفک میں چین کے خلاف اپنی پالیسی آگے بڑھانے میں درپیش مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں ڈیموکریٹ صدر اوباما کے دور میں برما میں جمہوریت کی بحالی ممکن ہوئی جسے
اوباما کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس دور میں جوبائیڈن امریکا کے نائب صدر تھے اور موجود حالات میں اب وہ منصب صدارت پر فائز ہیں۔ اس حوالے سے برما کی صورت حال ان کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا جارہی ہے۔برما میں مارشل لا لگنے کے بعد دنیا کو جو بائیڈن حکومت کی جانب سے ردعمل کا انتظار تھا جب کہ دوسری جانب خارجہ پالیسی سے متعلق طویل مشاورت کے بعد بالآخر بائیڈن حکومت نے اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔



















































