ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اگرسینٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری کو ختم کیا جاتا ہے تو اسکا سب سے زیادہ فائدہ کسے پہنچے گا؟دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی

datetime 1  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )سینیٹ کی 51 نشستوں پر انتخابات اوپن بیلیٹنگ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی ڈکٹیٹرشپ میں اضافہ کرے گی اور ان کے جوڑتوڑ کرنے کی طاقت بڑھائے گی،اگر خفیہ رائے شماری کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کے تمام تر فوائد سیاسی جماعتوں کے

سربراہوں کی جیب میں جائیں گے،اس لئے پی ڈی ایم نے غیر رسمی طورپر باہمی رابطوں میں فیصلہ کیا ہے کہ اوپن بیلیٹنگ سسٹم کی مخالفت کرے گی،روزنامہ جنگ میں صالح ظافر کی شائع خبر کے مطابق پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی ملاقات اگلے ہفتے ہوگی تاہم آج اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم کے شروع ہونے سے قبل ہی ملاقات کریں گے،اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے سربراہ،میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے بھی رہنمائی لی جائے گی،واضع رہے کہ حکومت سینیٹ کی 51 سیٹوں پر انتخابات سے قبل انتخابی عمل میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔دوسر ی جانب سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پرسپریم کورٹ میں سماعت کل ہوگی، تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کل کر ے گا۔اٹارنی جنرل

اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے گئے، واضح رہے کہ پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان حکومتیں اوپن بیلٹنگ کی حمایت کر چکی ہیںتاہم سندھ حکومت کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی ہے۔سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور

جماعت اسلامی پاکستان نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی ہے، الیکشن کمیشن نے بھی صدارتی ریفرنس کی مخالفت کی ہے، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے کہا تھا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہی ہوتے ہیں، آئین کے آرٹیکلز 59، 219 اور 224 میں سینیٹ

انتخابات کا ذکر ہے۔جواب میں کہا گیا کہ آرٹیکل 226 سے واضح ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے سوا الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوں گے، آئین میں کل 15 انتخابات کا ذکر ہے، آئین پاکستان اوپن بیلٹ کی اجازت نہیں دیتا، آئین میں صرف وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے انتخابات کو ہی اوپن کیا گیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…