بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

تصفیہ طلب تنازعات حل کرنے کے لئے کر کام کیا جانا چاہیے,نواز شریف

datetime 11  جولائی  2015 |

اوفا (نیوزڈیسک) وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ انتہاءپسندی، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے مضبوط اجتماعی رد عمل کی ضرورت ہے . علاقائی استحکام اقوام کی اقتصادی ترقی کی کلید ہے، اختلافات دور کرنے، تصفیہ طلب تنازعات حل کرنے اور عوام کی بہتری کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے مل جل کر کام کیا جانا چاہیے وہ یہاں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 15 ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کو نازک جغرافیائی و سیاسی ماحول کا سامنا ہے اور انسداد انتہاءپسندی اور بارڈر سیکورٹی میں اضافہ کے حوالے سے پاکستان کے مقاصد ایس سی او سے ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او پاکستان کو جنوبی ایشیا، افغانستان اور وسطی ایشیاءمیں امن و استحکام کے فروغ میں ایک مفید پلیٹ فارم مہیاءکرتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ خوشگوار اور باہمی طور پر مفید تعلقات کو ہماری خارجہ پالیسی میں ترجیحی حیثیت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اقوام کی اقتصادی ترقی کے لئے علاقائی استحکام کلید ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیاءمیں امن علاقائی مواصلاتی روابط اور تجارتی تعاون کے لئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او بہت سے قوی عوامل کی حامل ہے، اس کے چارٹر کے بنیادی اصول ریاستوں کی برابری، علاقائی سالمیت اور باہمی تعاون و سلامتی ہیں۔ ایس سی او کی روح بالادستی اور بین الاقوامی معاملات میں جبر سے نفرت کی حامل ہے۔ یہ اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ سازی کے عمل کی حامل ہے جو اس کے ارکان کو اعتماد بخشتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او پارٹنرز ایک شاندار ایجنڈا رکھتے ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے علاقائی استحکام کو یقینی بنانے اور اقتصادی ہم آہنگی کو تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اختلافات کم کرنے، تصفیہ طلب تنازعات حل کرنے اور اپنے عوام کی بہتری کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقے سے ”شنگھائی سپرٹ“ کو حقیقی طور پر عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے تنظیم میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت کو ایس سی او کی تاریخ میں اہم موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس باوقار فورم میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا اعزاز ملا ہے اور مجھے اعتماد ہے کہ ایس سی او کی توسیع یوریشیائی پٹی کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ میں اہم پیشرفت ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور پاکستان ایس سی او اس کے رکن ممالک کے ساتھ گہرے تاریخی، ثقافتی تعلقات کے ساتھ ساتھ مضبوط اقتصادی و اسٹریٹجک معاونت میں جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مفادات اور مقاصد متعدد شعبہ جات اور ایشوز پر ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ایس سی او خطے اور اس سے باہر تجارتی و توانائی روابط کے لئے زمینی اور بحری راستے پیش کرتا ہے۔ یہ یوریشیائی خطے کو بحیرہ ءعرب کے ساتھ ملانے کے لئے ایس سی او رکن ممالک کے لئے ایک قدرتی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے روس ایشیاءاور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ صدر پیوٹن کا سلک روڈ اکنامک بیلٹ کو یوریشیائی اقتصادی یونین کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا حالیہ اقدام تنظیم کے رکن ممالک کی اقتصادی رسائی میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی میدان میں چین کے صدر ژی چن پنگ کا ”ایک پٹی، ایک سڑک“ کا اقدام اولین کاوش ہے اور عظیم الشان علاقائی رابطے کا خاکہ بہت بڑے بنیادی ڈھانچے اور توانائی وسائل کی ترقی کے ساتھ ساتھ آئندہ معاشروں کے لئے بے مثال اقتصادی ثمرات کا حامل ہے۔ وزیراعظم نے شاندار مہمان نوازی پر روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایس سی او کے سیکریٹری جنرل دمتری میزنتسوسف کی تنظیم کے استحکام کے لئے کوششوں کو بھی سراہا



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…