جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے کوسٹ گارڈز کو غیر ملکی کشتیوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی

datetime 25  جنوری‬‮  2021 |

بیجنگ (این این آئی )چین نے قانون منظور کرکے کوسٹ گارڈ کو پہلی بار واضح طور پر غیر ملکی کشتیوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی۔اس اقدام سے چین کے اطراف متنازع پانیوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین کے بحیرہ مشرقی چین میں جاپان اور جنوب میں متعدد جنوب مشرقی

ایشیائی ممالک سے سمندری خود مختاری کے تنازعات ہیں۔اس قانون کی منظوری سے کوسٹ گارڈ کو دیگر ممالک کے ماہی گیروں کی کشتیوں کا پیچھا کرکے انہیں نشانہ بنانے کی اجازت ہوگی۔چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی اعلی ترین قانون ساز باڈی، نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی، نے کوسٹ گارڈ قانون کی منظوری دی۔قبل ازیں سامنے آنے والے مجوزہ قانونی بل میں کہا گیا تھا کوسٹ گارڈز کو اجازت ہے کہ وہ غیر ملکی کشتیوں سے لاحق خطرات کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے۔بل میں ان حالات کی بھی وضاحت کی گئی ہے جن میں مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کیے جاسکتے ہیں۔قانون کے تحت کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کو اجازت ہوگی کہ وہ ان چٹانوں پر دیگر ممالک کے ڈھانچوں کو مسمار کر سکتے ہیں جن کی ملکیت کا چین دعوی کرتا ہے، جبکہ وہ ان پانیوں میں غیر ملکی کشتیوں کی جانچ پڑتال کر سکتے ہیں جن پر چین کا دعوی ہے۔قانون کے ذریعے کوسٹ گارڈز کو ضرورت کے تحت عارضی اخراجی زونز قائم کرنے کا بھی اختیار ہوگا، تاکہ دیگر کشتیوں اور اہلکاروں کو داخلے سے روکا جاسکے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنیانگ نے خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون بین الاقوامی طریقوں کے مطابق ہے۔قانونی بل کے پہلے آرٹیکل میں وضاحت کی گئی ہے کہ چین کی خودمختاری، سلامتی اور سمندری حقوق کے لیے قانون کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…