جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

بائیڈن انتظامیہ میں پاک امریکہ فوجی تعلقات کی تجدید کا امکان نامزد امریکی وزیردفاع کا اہم بیان سامنے آگیا

datetime 21  جنوری‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی ) امریکا کے نامزد دفاعی سربراہ جنرل لائیڈ جے آسٹن نے کہا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان کو افغانستان کے امن عمل میں ایک ضروری ساتھی کے طور پر دیکھتی ہے اور علاقائی عناصرکو امن عمل خراب کرنے سے روکنے کے لیے کام بھی کرے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل لائیڈ جے آسٹن

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ ہیں اور اگر امریکی سینٹ منظور کردیتی ہے تو وہ نئے سیکریٹری دفاع ہوں گے جبکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سابق عہدیدار ٹنی بلنکین امریکا کے نئے سیکریٹری اسٹیٹ ہوں گے۔سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے ایک سوال کا جوب دیتے ہوئے جنرل لائیڈ آسٹن نے کہا کہ افغانستان میں کسی بھی امن عمل کے لیے پاکستان ایک انتہائی ضروری ساتھی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں افغان امن عمل کو بگاڑنے کے لیے کام کرنے والے علاقائی عناصر کو روکتے ہوئے ایک علاقائی اپروچ کی حوصلہ افزائی کروں گا جو پڑوسی ممالک مثلا پاکستان سے حمایت حاص کرے۔جنرل لائیڈ آسٹن سے سوال کیا گیا کہ بحیثیت سیکریٹری دفاع وہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کیا تبدیلیاں تجویز کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ میں ہمارے مشترکہ مفادات پر توجہ دوں گا جس میں بین الاقوامی فوجی تعلیم و تربیت فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے فوجی رہنماں کی تربیت بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں ہونے والے کسی بھی تصفیے میں اہم کردار ادا کرے گا،

ہمیں القاعدہ اور داعش خراسان کو شکست دینے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔نامزد سیکریٹری دفاع سے سوال کیا گیا کہ چونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ستمبر 2018 میں پاکستان کو سیکیورٹی امداد روک دی تھی تو کیا انہوں نے امریکا کے ساتھ

پاکستان کے تعاون میں کوئی تبدیلی محسوس کی ہے؟جس پر جنرل لائیڈ آسٹن نے جواب دیا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے افغان امن عمل کی حمایت میں امریکی درخواستوں پر عمل کرنے کے لیے تعمیری اقدامات اٹھائے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت مخالف گروہوں مثلا لشکرِ

طیبہ اور جیش محمد کے خلاف بھی اقدامات اٹھائے حالانکہ ان کی پیش رفت ابھی نامکمل ہے۔جنرل لائیڈ آسٹن نے اعتراف کیا کہ ہوسکتا ہے سیکیورٹی امداد کی معطلی کے علاوہ بھی کئی پہلو پاکستان کے تعاون پر اثر انداز ہوئے ہوں جس میں افغانستان مذاکرات اور پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی خطرناک

کشیدگی شامل ہے۔امریکی جنرل سے پوچھا گیا کہ وہ پاکستان پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا حربے اور آپشنز استعمال کرں گے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان پر دبا ئوڈالوں گا کہ وہ اپنی سرزمین کو عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ اور پر تشدد

انتہا پسند تنظیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے، پاکستان کی فوج کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے سے امریکا اور پاکستان کے کلیدی امور پر تعاون کرنے کی راہیں کھلیں گی۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…