بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

القاعدہ کو شکست دینے کیلئے پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہوگا، امریکی جنرل

datetime 10  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہوگا۔ یہ پاکستان کے استحکام اور افغانستان میں امن کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ کانگریس کو بریفنگ میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار اور اّپریشن ضرب عضب کی تعریف بھی کی۔ امریکی میرین کور کمانڈنٹ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کانگریس کو بریفنگ میں بتایا کہ شدت پسندی کا خاتمہ پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ دونوں ملک القاعدہ کو شکست دینے کے لیے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کے تحت کام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اّپریشن میں پاکستان نے امریکا کو مدد فراہم کی ہے۔ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار اور اّپریشن ضرب عضب کی تعریف کی اور کہا کہ پاک فوج کی شمالی وزیرستان اور دیگرعلاقوں میں کارروائیوں سے شدت پسند گروپوں کو نقصان پہنچا ہے۔
مزیدپڑھیے :امریکی مسلمان عیسائی کلیسا کے پاسبان بن گئے

انھوں نے کہا کہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی شکست دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہوگا۔ یہ پاکستان کے استحکام اور افغانستان میں امن کے حصول کے لیے بھی ضروری ہے۔ پاکستان کے ساتھ پائیدار پارٹنرشپ کے لیے یہ امریکا کے مفاد میں ہے۔ امریکا کو پاکستانی فوج کے ساتھ کام جاری رکھنا ہوگا اور گراونڈ لائنز آف کمیونیکیشنز کے حوالے سے بھی پاکستان کا تعاون قابل تعریف ہے۔ ان کا کہنا ہے قومی سلامتی کے لیے روس کو نمبر ایک اور چین کو نمبر دو خطرہ سمجھتے ہیں۔ جنرل ڈنفورڈ نے ایک سوال کے جواب میں کہا وہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے روس کو نمبر ایک اور چین کو نمبر دو خطرہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یوکرائن کو ہتھیاروں کی فراہمی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انکے بغیر وہ روسی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع نہیں کر پائیں گے۔ صدر براک اوباما نے مئی میں میرین جنرل ڈنفورڈ کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے لئے نامزد کیا تھا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…