ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

مصباح و وقار ذہنی طور پر ٹارچر کرتے آئے، مزید برداشت نہیں کرسکتا، محمد عامرنے سنگین الزامات عائد کر دیے

datetime 15  جنوری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (این این آئی)انٹرنیشنل کرکٹ سے حال ہی میں کنارہ کشی اختیار کرنے والے فاسٹ بولر محمد عامر نے بتایا کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کرتے آئے، اب میں مزید برداشت نہیں کرسکتا۔جمعرات کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس کے بیان کا جواب

دے دیا۔ فاسٹ بولر نے کہا کہ مصباح الحق اور وقار یونس میرے مقدمے کو غلط رنگ دے رہے ہیں، میں اب بھی مصباح اور وقار کے ہوتے ہوئے نہیں کھیلنا چاہتا۔انھوں نے ساتھ میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بات اب بہت آگے نکل چکی ہے۔محمد عامر نے کوچز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق اور وقار یونس میری کارکردگی پر بات کرتے ہیں وہ پہلے اپنی پرفارمنس دیکھیں۔انھوں نے کہا کہ شکستوں کا ملبہ کورونا پر ڈال رہے ہیں، باقی دنیا کے لیے بھی کورونا ہے۔محمد عامر نے کہاکہ وقار یونس کو میرے بیانات سے دکھ ہوا تو مجھے اس سے کہیں زیادہ دکھ پہنچا۔فاسٹ بولر نے کہا کہ مصباح اور وقار ذہنی طور پر ٹارچر کرتے آئے، اب مزید برداشت نہیں کرسکتا۔محمد عامر کا کہنا تھا کہ میں پی سی بی یا کرکٹ سے بڑا نہیں ہوں، مگر موجودہ حالات میں نہیں کھیل سکتا۔انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو جب تک آسان ماحول نہیں دیں گے کارکردگی بہتر نہیں ہوسکتی۔دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور دْنیا بھر میں سوئنگ کے سلطان کے لقب سے مشہور وسیم اکرم نے اپنے بھائی کے ہمراہ 34 سال پْرانی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔وسیم اکرم نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ماضی کی اپنی ایک یادگار تصویر شیئر کی ہے۔مذکورہ تصویر میں وسیم اکرم کے ہمراہ اْن کے بھائی بھی موجود ہیں اور

دونوں بھائیوں نے ایک جیسی شرٹ زیب تن کی ہوئی ہے۔وسیم اکرم اور اْن کے بھائی کی شرٹ پر انگریزی زبان میں درج ہے ’مجھے نیو یارک سے محبت ہے۔سابق کرکٹر نے اس نایاب تصویر کے ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’دیکھیں، مجھے کیا ملا۔اْنہوں نے بتایا کہ تصویر میں اْن کے ساتھ اْن کے بھائی موجود ہیں جبکہ یہ تصویر سال 1986ء کی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…