منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

منگھو پیر میں 13 سالہ لڑکے کے قتل کا معمہ حل ہو گیا 13 سالہ لڑکے کا قاتل اس کا اپنا کلاس فیلو ہی نکلا

datetime 11  جنوری‬‮  2021 |

کراچی( آن لائن )کراچی کے علاقہ منگھو پیر میں 13 سالہ لڑکے کے قتل کا معاملہ حل ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے بتایا کہ 13 سالہ ارباز کو اس کے کلاس فیلو ارحم نے قتل کیا ، جسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ قاتل ارحم نے اپنے ساتھی کو قتل

کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ارحم نے ارباز کو سر پر بھاری چیز مار کر قتل کیا تھا۔ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران ارباز کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا پتھر بھی برآمد ہوا۔ ارحم کے گھر سے برآمد ہونے والی چیزوں میں ارحم کے خون آلود کپڑے اور ارباز کو موبائل فون بھی تھا۔ پولیس نے کہا کہ ملزم نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ٹیچر نے اسے پیپر لیک کرکے دیا ، جس کا ارباز کو پتہ چل گیا تھا، اور یہی بات قتل کی وجہ بنی۔پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ بچے کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے، البتہ زیادتی کی تصدیق میڈیکل رپورٹ سے ہوگی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ارحم کے ساتھ قتل میں ملوث ایک اور ملزم ارسلان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ارحم نے ارسلان کی ہی مدد سے ارباز کی لاش کو پلاٹ میں لے جا کر پھینکا تھا۔ دونوں ملزمان ارحم اور ارسلان کو ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔یاد رہے کہ جمعے کی شام منگو پیر سے لا پتہ ہونے والے 12 سالہ بچے کی لاش اورنگی

ٹاون الطاف نگر کے بلاک A کے قریب پلاٹ سے برآمد ہوئی تھی۔ 13سالہ ارباز ولد عزت گل کی لاش پر تشدد کے نشان بھی تھے۔ اہل خانہ کے مطابق ارباز جمعرات کی شام لاپتہ ہوا، گمشدگی پر منگھوپیر تھانے کو فوری طور پر اطلاع دی گئی جس کے کچھ دیر بعد ہی بچے کی

لاش خالی پلاٹ سے برآمد ہوئی، ارباز کے سر پر چوٹ کا نشان بھی موجود تھا۔والدین کے مطابق بچہ جمعہ 8 جنوری کی صبح 9 بجے گیم اپ لوڈ کروانے نکلا تھا لیکن پھر واپس نہیں آیا۔بچے کو تلاش کرنا شروع کیا لیکن نہیں ملا جس پر تھانے میں گمشدہ کی شکایت درج کروائی تھی۔ بچے کے چچا نے بتایاکہ گھر کی خواتین کسی کام کے لیے چھت پر چڑھی تھیں تو دیکھا کہ میرے بھانجے کی لاش ہمارے ساتھ گھر کی چھت پر پڑی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…