پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں بچی سمیت عمارت سے چھلانگ لگانے والی خاتون پر سابق شوہر کے قتل کا الزام، خاتون سے متعلق کئی اہم انکشافات

datetime 3  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن) گلشن اقبال میں کمسن بیٹی کو عمارت سے پھینکنے اور خود چھلانگ لگاکر خودکشی کرنے والی خاتون اپنے پہلے شوہر کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوچکی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت خاتون گھر میں اکیلی تھی، زخمی مریم نے تین ماہ کا کرایہ بھی مالک مکان کو نہیں دیا جس پر مالک مکان کی جانب سے خاتون کو فلیٹ خالی کرنے کا نوٹس بھی دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال کے علاقے بلاک 13 ڈی کی رہائشی 33 سالہ مریم نے اپنی لخت جگر ڈیڑھ سالہ بیٹی ایمان کو عمارت سے نیچے پھینک دیا تھا علاقہ مکینوں نے چادر ڈال کر بچی کو بچالیا تھا تاہم خاتون نے عمارت سے خود بھی چھلانگ لگادی جو بجلی کے تاروں سے الجھتی ہوئی نیچے گر کر زخمی ہوگئی تھی، تاہم زخمی خاتون کو نجی اسپتال اس کے بعد جناح اسپتال منتقل کیا گیا، اس حوالے سے ایس ایچ او گلشن اقبال سہیل شہزاد نے بتایا کہ دوران تفتیش معلوم ہوا ہے کہ زخمی خاتون پہلے شوہر شہزاد حسن کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوکر جیل کاٹ چکی ہے جبکہ 2 سے 3 سال قبل مریم نے دوسری شادی فیصل نامی شخص سے کی تھی ایس ایچ او کے مطابق بلڈنگ کے رہنے والوں سے معلومات ملی ہیں کہ مذکورہ خاتون فلیٹ میں چند ماہ قبل شفٹ ہوئی تھیں ان کا شوہر فیصل کئی دنوں سے بلڈنگ میں نہیں دیکھا گیا جبکہ مالک مکان نے خاتون کو فلیٹ خالی کرنے کے لیے نوٹس بھی دیا ہوا ہے، زخمی مریم نے تین ماہ کا کرایہ بھی مالک مکان کو نہیں دیا خاتون کے اہلخانہ کو تلاش کیا جارہا ہے تاکہ اصل صورت حال سامنے آئے، اسپتال جاکر خاتون کا بیان لینے کی کوشش کی تو ڈاکٹروں نے منع کردیا خاتون بے ہوشی کی حالت میں ہے ہوش میں آنے کے بعد مریم کا تفصیلی بیان لیا جائیگا اور اس سے پوچھا جائیگا کہ اس نے انتا بڑا اقدام کیوں اٹھایا ہے زخمی خاتون کے خلاف اقدام خودکشی اور اپنی کمسن بیٹی کو عمارت سے پھینکنے کا مقدمہ اقدام قتل کے تحت درج کیا جائیگا، پولیس کے مطابق زخمی خاتون مبینہ طور پر نشے کی عادی بھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…