پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، اور شہباز شریف کے اثاثے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ کار ،تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 3  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، اور شہباز شریف کے اثاثے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ کار ہے، خواجہ آصف نے بھی اپنے قائد کی طرح ٹی ٹی کا طریقہ کار اپنایا ہے،خواجہ آصف کی تنخواہ کی مد میں 14 کروڑ روپے ملنے کا ثبوت دکھائیں، ان کی ساری رقم دبئی کے اکاؤنٹ میں کیش ہیں،تنخواہوں

سے متعلق خواجہ آصف کے پاس کوئی دستاویز نہیں ۔ ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف سے جب 22 لاکھ روپے ماہانہ کا ثبوت مانگا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ وہ کیش میں لین دین کر رہے تھے۔انہوںنے کہاکہ خواجہ آصف کی تنخواہ کی مد میں 14 کروڑ روپے ملنے کا ثبوت دکھائیں، ان کی ساری رقم دبئی کے اکاؤنٹ میں کیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے اپنے قائد کی طرح ٹی ٹی کا طریقہ کار اپنایا اور دبئی کے اکاؤنٹ سے پاکستان کے اکاؤنٹ میں ٹی ٹیاں لگائیں۔شہزاد اکبر نے کہاکہ تنخواہوں سے متعلق خواجہ آصف کے پاس کوئی دستاویز نہیں ہے، وہ کونسا ایسا کاروبار کرتے تھے جو صرف کیش میں ہی ہوتا تھا۔انہوںنے کہاکہ وہ وزارت سے فارغ ہوئے تو ان کی دبئی کی نوکری بھی چلی گئی، وہ دبئی کی کمپنی میں اب نوکری کیوں نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف اب تک نیب کو مطمئن نہیں کرسکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خواجہ آصف نے گوجرانوالہ کی سوسائٹی میں 80 لاکھ کا پلاٹ لیا اور اسی کمپنی کو پلاٹ 4 کروڑ کا واپس کردیا۔معاون خصوصی نے کہاکہ سیالکوٹ میں پلاٹ خواجہ آصف نے 12 کروڑ 50 لاکھ کا فروخت کیا، خواجہ آصف نے فروخت کا جو معاہدہ اور چیک دکھایا وہ چیک بک 6 ماہ بعد جاری ہوئی تھی۔انہوںنے کہاکہ خواجہ آصف قانونی طور پر اپنی جنگ لڑیں، عوام کو گمراہ نہ کریں۔مشیر داخلہ نے کہا کہ آج کے احتساب کا قانون ہماری حکومت نے نہیں بنایا بلکہ کرپشن روکنے کا قانون 1947 سے موجود ہے اور ان سیاستدانوں نے کرپشن کے تحت جائیدادیں بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…