پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اب پاکستان میں چاند پر کوئی تصادم نہیں ہوگا، رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین کا فواد چوہدری اور مولانا پوپلزئی کے لیے بڑا اعلان

datetime 31  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)رویت ہلال کمیٹی کے نئے چئیرمین اور بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا سید عبدالخبیر آزاد کا کہنا ہے کہ چاند دیکھنے کے لیے سائنس اور تحقیق کی مدد لی جائے گی۔وزارت سائنس اور ٹیکنلوجی سے کوئی تصادم نہیں ہو گا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین کا کہنا تھا کہ شہادتیں جمع کرنے کے لیے شرعی اصولوں اور

اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھوں گا،پوری کوشش ہو گی کہ عیدیں اور رمضان کے چاند پر قومی اتفاق رائے ہو۔چئیرمین رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ مستند شہادتیں اکٹھی کرنے، دیر سے ملنے سے چاند کے اعلان میں تاخیر ہوتی ہے۔اس میں دانستہ کوشش نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم پشاور کے مولانا پوپلزئی کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مفتی منیب الرحمن کے ساتھ 15 سال تک کام کیا۔ان سے بہت کچھ سیکھا،وہ عظیم عالم دین ہیں۔آئندہ بھی ان سے رہنما حاصل کرتا رہوں گا۔مولانا سید عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ انہیں جید علما، فلکیات دانوں اور ماہرین موسمیات کا تعاون حاصل ہے۔انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری کی طرف سے ان کی ذات پر اعتماد کے اظہار پر شکر گزار ہوں۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ملک میں ہر برس اہم مواقعوں پر شاند کی رویت کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے کو ختم کرنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی نئے سرے سے تشکیل نو کی ہے۔مفتی منیب الرحمان کو کمیٹی کے چئیرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ مفتی منیب الرحمان برسوں سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین کے عہدے ہر براجمان تھے، تاہم اب حکومت نے انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد کمیٹی کے نئے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں۔چئیرمین کی تبدیلی

کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور محکمہ موسمیات کے نمائندے رویت ہلال کمیٹی کمیٹی میں شامل کیے گئے ہیں۔ وزارت مذہبی امور اور سپارکو کے نمائندے بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ نئے چئیرمین کی تعیناتی اور کمیٹی کی تشکیل نو کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…