پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

عامر لیاقت حسین نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیدی

datetime 31  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی، ٹی وی میزبان و مذہبی اسکالر عامر لیاقت حسین کی پہلی اہلیہ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں شوہر نے طلاق دے دی ہے۔عامر لیاقت کی جانب سے دوسری شادی کے عوامی سطح پر اعتراف کے ٹھیک دو سال بعد

اب ان کی پہلی اہلیہ نے تصدیق کی ہے کہ شوہر نے انہیں طلاق دے دی ہے۔عامر لیاقت نے دوسری شادی کی تصدیق دسمبر 2018 میں کی تھی، ان کی دوسری شادی اداکارہ طوبی عامر سے ہوئی تھی۔عامر لیاقت کی جانب سے کاغذات نامزدگی میں دوسری شادی کے اعتراف کے بعد سوشل میڈیا پر کافی ہنگامہ مچا، تاہم انہوں نے چند ماہ کی افواہوں کے بعد دسمبر 2018 میں پہلی بار عوامی سطح پر دوسری شادی کا اعتراف کیا۔عامر لیاقت کو خود سے کم عمر لڑکی سے دوسری شادی کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب کہ ان کی جواں سالہ بیٹی دعا عامر اور پہلی اہلیہ بشری عامر نے بھی دکھ کا اظہار کیا تھا۔سید بشری اقبال نے اپنی ٹوئٹ اور انسٹاگرام پوسٹ میں مختصر طور پر تصدیق کی کہ عامر لیاقت حسین نے انہیں طلاق دے دی ہے۔بشری اقبال کے مطابق عامر لیاقت نے دوسری بیوی کی درخواست پر انہیں فون کال کرکے طلاق دی، جو ان کے لیے اور ان کے بچوں کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں ۔ انہوں نے لکھا کہ طلاق

دینا الگ بات ہے اور اسے فون پر بچوں کے سامنے دینا الگ بات ہے۔بشری اقبال نے مختصر پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے اپنا پورا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے۔بشری اقبال کی جانب سے طلاق کی تصدیق کیے جانے کے بعد کئی لوگوں نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ٹوئٹر پر

عامر لیاقت اور ان کی موجود ہ بیوی کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایک صارف صدف ملک نے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ٹوئٹ کی عامر لیاقت نے اپنی بیوی کے کہنے پر نہیں بلکے ان کے حکم پر یہ عمل کیا ہے،اللہ آپ کے حق میں بہتر کریگا۔ایک اور ٹوئٹر صارف محمد حارث

نے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے لکھا کہ سن کر کافی افسوس ہوا اور آپ کا اللہ پر یقین دیکھ کر خوشی ہوئی۔ عامر لیاقت سے تو کچھ اچھے کی امید نہیں ، عورت کو بھی عورت کا خیال نہیں۔ٹوئٹر پر اس خبر کے سامنے آنے کے بعد اب تک عامر لیاقت یا ان کی موجودہ بیوی طوبی عامر کی جانب سے کوئی رعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…