ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بشریٰ انصاری نے پہلی بار36 سالہ شادی کے خاتمے کی وجہ بتادی‎

datetime 28  دسمبر‬‮  2020 |

مکوآنہ (این این آئی)معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا ہے کہ شادی کے 36 سال بعد میں نے خود ہی طلاق لینے کا فیصلہ کیا تھا،میری نظر میں ”طلاق“زندگی کے برے وقت سے نکلنے کا ایک حل تو ہے لیکن میں ان میں سے نہیں جس کو طلاق دی گئی ہو بلکہ میں نے خود اپنے شوہر کو طلاق دی، میں نے اپنی شادی کے 36 سال بعد طلاق لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک انٹرویو میں اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا کہ

میں نے شادی کے 36 سال بعد میں نے خود ہی طلاق لینے کا فیصلہ کیا تھا،میری نظر میں ”طلاق“زندگی کے برے وقت سے نکلنے کا ایک حل تو ہے لیکن میں ان میں سے نہیں جس کو طلاق دی گئی ہو بلکہ میں نے خود اپنے شوہر کو طلاق دی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی شادی کے 36 سال بعد طلاق لینے کا فیصلہ کیا،داکارہ نے انکشاف کیا کہ میری میرے ابا کی بہن کے ساتھ اس طرح کا کچھ واقعہ ہوگیا تھا جس کے بعد انہوں نے سوچا کہ میری بیٹی کو بھی اس طرح کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے اس لیے انہوں نے شادی سے پہلے ہی ایسا کردیا تھا کہ میری بیٹی جب چاہے طلاق دے سکتی ہے۔بشریٰ انصاری نے کہا کہ جب تک ہمیں سمجھ آئی کہ ہماری زندگی میں مسائل ہیں، یا ہم ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے، تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور بچے سکول جانے لگ گئے تھے، اس لئے میں جب بھی مشکل میں ہوتی تو سوچتی تھی کہ یہ وقت مشکل ہے یا پھر طلاق کے بعد والا مشکل ہوگا کیونکہ میرے پاس دو بیٹیاں ہیں اور اگلی زندگی میں بھی یہی مسائل رہے تو، بہتر یہی ہے کہ اسی زندگی کو برداشت کیا جائے اور ایسے ہم نے 36 سال گزار لیے۔اداکارہ نے کہا کہ جب بیٹیوں کی شادی ہوگئی اور ان کے بھی بچے ہوگئے تو لگا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک دوسرے کو ریلیف دیا جائے، حالانکہ آج کل ایسا نہیں ہوتا، شادی شدہ جوڑے 6،5 سال تک بچے ہی پیدا نہیں کرتے جو غلط بھی ہے کیوں کہ ایسے تو کسی کا گھر بھی نہیں بسے گا، گھر فوراً ٹوٹ جائے گا، جب بچے ہی نہیں ہوں گے تو خاندان کیسے آگے بڑھے گا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…