بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں سے سابق سپیکر ایاز صادق کس طرح نمٹے تھے؟اسد قیصر کو وہی طریقہ اختیار کرنے کا مشورہ دیدیا گیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں سے سابق اسپیکر ایاز صادق کس طرح نمٹے تھے؟ موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی بھی متوقع استعفوں پر وہی طریقہ کار اختیار کرسکتے ہیں۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ کی شائع خبر کے مطابق قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق

کے پاس جب پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی نے استعفے جمع کیے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ ان استعفوں کو اعلی عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں آئین اور قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔ 6 اپریل، 2015 کو دیئے گئے اپنے حکم میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلسل 40 روز تک رکن کی غیرحاضری کی وجہ سے خالی رہنے والی سیٹ پر آئین کے آرٹیکل 64 (2) کے تحت یہ بات اسمبلی کے نوٹس میں لائی جاتی ہے۔ تاہم، یہ تحریک قانون ساز بھجواتے ہیں اور اس کے بعد ایوان اس کو قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، یہ کام سپیکر نہیں کرتا۔ تاہم، اب تک کوئی تحریک سامنے نہیں آئی ہے۔ ایاز صادق نے 3 ستمبر، 2014 کو تحریر کیا تھا کہ پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے دیگر ارکان کے ساتھ مشترکہ بیٹھک میں سیشنز میں شرکت کی تھی۔ انہیں اسپیکر چیمبرمیں آکر استعفوں سے متعلق بات چیت کا کہا گیا تھا مگر وہ تقریر کرکے پی آئی آئی قانون سازوں کے ہمراہ ایوان سے چلے گئے تھے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنے

استعفوں کی توثیق کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایاز صادق نے کہا تھا کہ استعفیٰ ان کے آفس میں جمع کروائے گئے تھے اور وہ ذاتی حیثیت میں سپیکر کو نہیں دیئے گئے تھے اس لیے آئین اور قانون کے مطابق، انہیں نوٹسز جاری کیے گئے تاکہ وہ اسپیکر چیمبر میں آکر اس کی توثیق کریں۔

اس سے قبل 2 ستمبر، 2014 کو جاوید ہاشمی جو کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے تھے، ایوان میں شریک ہوئے اور تقریر کی اور اس کے آخر میں اسپیکر سے استعفیٰ قبول کرنے کی درخواست کی ، جسے تسلیم کرکے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ ایاز صادق نے 1976 میں سپریم کورٹ

کی جانب سے آرٹیکل 64 کی تشریح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کہا گیا تھا کہ اس شق کے تحت اسپیکر کا یہ فرض اور حق ہے کہ وہ استعفوں کی حقانیت کی توثیق کرے۔ جب کہ اگر اسپیکر ضروری سمجھے تو اس کی انکوائری بھی کرواسکتا ہے۔ تاہم، انکوائری کا انحصار کیس کی

نوعیت سے مختلف ہوسکتا ہے۔ فیصلے میں رول 43 کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی رکن تحریری طور پر اپنا استعفیٰ اسپیکر کو بھیج سکتا ہے۔ اگر وہ ذاتی حیثیت میں اسپیکر کو یہ استعفیٰ دے اور اسپیکر کو بتادے کہ وہ رضاکارانہ طور پر مستعفی ہورہا ہے۔

جب کہ دوسری صورت میں اگر اسپیکر کو اس متعلق کوئی علم نا ہو یا اسپیکر کو استعفیٰ کسی اور ذریعے سے ملا ہو تو وہ انکوائری کے بعد چاہے وہ ذاتی حیثیت میں کی جائے یا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذریعے یا کسی اور ایجنسی کے ذریعے کی جائے جس کے بعد اگر وہ مطمئن ہو کہ استعفیٰ حقیقی ہے تو وہ اسمبلی کو اس بارے میں آگاہ کرے گا۔ اگر کسی رکن نے اس وقت استعفیٰ دیا ہے کہ جب اسمبلی سیشن نا ہورہا ہو تو اسپیکر فوری طور پر اس سے متعلق تاریخ کے ساتھ ہر رکن کو آگاہ کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…