منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان کو قوم کی نہیں ذات کی فکر ، مولانا بند گلی میں پھنس چکے، مولانا فضل الرحمان کے ساتھیوں نے ہی کچا چٹھا کھول دیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ / مردان(آن لائن ) جمعیت علمائے اسلام (ف) سے خارج کئے گئے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ پارٹی دستور کی ہم نے نہیں مولانا فضل الرحمان نے خلاف ورزی کی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) سے خارج کئے گئے رہنما حافظ حسین احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہماری اپنے ساتھیوں سے مشاورت جاری ہے، اور ہم کہیں نہیں جارہے بلکہ لوگ ہمارے پاس آرہے ہیں۔

حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ ہم مولانا فضل الرحمان سے پہلے جمعیت میں شامل ہوئے، اور مولانا محمد خان شیرانی پارٹی کے بانی اراکین میں سے ہیں، ہماراجے یوآئی (ف) سے نہیں جمعیت علماء اسلام پاکستان سے تعلق ہے، پارٹی دستور کی خلاف وزری ہم نے نہیں مولانا فضل الرحمان نے کی ہے۔دوسری جانب مردان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی کے منحرف رہنما مولا نا شجاع الملک کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو قوم کی نہیں اپنی ذات کی فکر ہے، مولانا بند گلی میں پھنس چکے ہیں اور نیب سے بچنے کے لئے ڈرامے کر رہے ہیں، اگر ان کا دامن صاف ہے تو نیب کے سامنے پیش ہوں، انہوں نے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے پوری جماعت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔مولانا شجاع الملک کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل کسی جماعت میں جمہوریت نہیں اور نہ ہی یہ سب ایک پیج پر ہیں، ان جماعتوں میں جمہوریت نہیں شہنشاہیت ہے اور یہ سب مل کر حکومت نہیں گرا سکتے، اداروں کے سامنے دھرنوں کی باتیں بچگانہ ہے۔سابق رہنما نے کہا کہ ہمیں صفائی کا موقع دئیے بغیر پارٹی سے ہماری رکنیت ختم کی گئی، میں جے یو آئی کی مرکزی شوری کا ممبر ہوں لیکن مجھے بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، مولانا فضل الرحمان سے اختلافات آج نہیں 13 سال سے ہے، اور ہم اکیلے نہیں چاروں صوبوں کے کارکن ساتھ ہے۔واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام کی پارٹی ڈسپلنری

کمیٹی نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے 4 اراکین مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان اور مولانا شجاع الملک کی بنیادی رکنیت ختم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ چاروں رہنماؤں کے ساتھ جو پارٹی رہنما پارٹی نظم سے متعلق پروگراموں میں شرکت کرے گا ان کی بھی رکنیت ختم کردی جائے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…