پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان کو قوم کی نہیں ذات کی فکر ، مولانا بند گلی میں پھنس چکے، مولانا فضل الرحمان کے ساتھیوں نے ہی کچا چٹھا کھول دیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ / مردان(آن لائن ) جمعیت علمائے اسلام (ف) سے خارج کئے گئے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ پارٹی دستور کی ہم نے نہیں مولانا فضل الرحمان نے خلاف ورزی کی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) سے خارج کئے گئے رہنما حافظ حسین احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہماری اپنے ساتھیوں سے مشاورت جاری ہے، اور ہم کہیں نہیں جارہے بلکہ لوگ ہمارے پاس آرہے ہیں۔

حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ ہم مولانا فضل الرحمان سے پہلے جمعیت میں شامل ہوئے، اور مولانا محمد خان شیرانی پارٹی کے بانی اراکین میں سے ہیں، ہماراجے یوآئی (ف) سے نہیں جمعیت علماء اسلام پاکستان سے تعلق ہے، پارٹی دستور کی خلاف وزری ہم نے نہیں مولانا فضل الرحمان نے کی ہے۔دوسری جانب مردان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی کے منحرف رہنما مولا نا شجاع الملک کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو قوم کی نہیں اپنی ذات کی فکر ہے، مولانا بند گلی میں پھنس چکے ہیں اور نیب سے بچنے کے لئے ڈرامے کر رہے ہیں، اگر ان کا دامن صاف ہے تو نیب کے سامنے پیش ہوں، انہوں نے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے پوری جماعت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔مولانا شجاع الملک کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل کسی جماعت میں جمہوریت نہیں اور نہ ہی یہ سب ایک پیج پر ہیں، ان جماعتوں میں جمہوریت نہیں شہنشاہیت ہے اور یہ سب مل کر حکومت نہیں گرا سکتے، اداروں کے سامنے دھرنوں کی باتیں بچگانہ ہے۔سابق رہنما نے کہا کہ ہمیں صفائی کا موقع دئیے بغیر پارٹی سے ہماری رکنیت ختم کی گئی، میں جے یو آئی کی مرکزی شوری کا ممبر ہوں لیکن مجھے بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، مولانا فضل الرحمان سے اختلافات آج نہیں 13 سال سے ہے، اور ہم اکیلے نہیں چاروں صوبوں کے کارکن ساتھ ہے۔واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام کی پارٹی ڈسپلنری

کمیٹی نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے 4 اراکین مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان اور مولانا شجاع الملک کی بنیادی رکنیت ختم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ چاروں رہنماؤں کے ساتھ جو پارٹی رہنما پارٹی نظم سے متعلق پروگراموں میں شرکت کرے گا ان کی بھی رکنیت ختم کردی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…