پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان لاڑکانہ جلسے میں شرکت کیوں نہیں کر رہے؟پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اختلافات کی وجہ سامنے آگئی

datetime 26  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی شہید بینظیر بھٹو کی برسی پر لاڑکانہ جلسے میں عدم شرکت کی وجہ سندھ میں اپنی مرضی کے افسران کی تعیناتی نہ ہونا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برسی کی مناسبت سے لاڑکانہ میں ہونیوالے جلسے سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے

درمیان اختلافات کی وجوہات سامنے آگئی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جے یو آئی ف نے پیپلز پارٹی پر من پسند افراد کی سندھ حکومت میں تعیناتی کیلئے دباوَ ڈالا۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی لاڑکانہ جلسے میں عدم شرکت کی وجہ سندھ میں اپنی مرضی کے افسران کی تعیناتی نہ ہونا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بھائی چھوٹے بھائی ضیا الرحمان کی کراچی ضلع وسطی میں بطور ڈسٹرکٹ کمشنر تعیناتی بھی فرمائش پر ہوئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے جے یو آئی ف کی جانب سے سندھ میں تبادلوں اور تقرریوں کیلئے دباوَ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جے یو آئی ف نے سندھ میں بے نظیر بھٹو کے مزار پر دھرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے قریبی دوستوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھٹو کے مزار پر دھرنے کی دھمکی تو جمہوریت کے بدترین مخالفین نے بھی نہیں دی۔ذرائع کے مطابق جے یو آئی ف سندھ کے رہنما راشد سومرو نے مولانا فضل الرحمان کی ہدایت مقامی قیادت تک پہنچائی ہے۔دوسری جانب جے یو آئی ف نے پیپلزپارٹی کے ساتھ اختلافات کی تردید کی ہے۔ امیر جے یو آئی لاڑکانہ علامہ ناصر سومرو کا کہنا ہے کہ جمعیت علما اسلام نے کسی افسر کی تقرری کی سفارش نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل جے یو آئی ف اور ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ کے

درمیان تنازع پیدا ہوا تھا۔ ڈی سی لاڑکانہ نے جے یو آئی ف کے پینافلیکسز اور پرچم شہر بھر سے اتروا دیے تھے۔ ڈی سی کی معذرت کے بعد جے یو آئی ف نے معاملے کو ختم کردیا۔ علامہ ناصرسومرو نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی برسی میں جے یو آئی ف کا اعلیٰ سطح کا وفد شریک ہورہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…