منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

اداکارہ مشال خان کا عدالت میں درخواست دینا ریچھ رانو کیلئے اچھا ثابت ہوا،عدالتی حکم جاری

datetime 26  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) اداکارہ مشال خان کی درخواست پر ریچھ رانو کو نئے پنجرے میں منتقل کرنے کا حکم دیدیا گیا ۔گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے چڑیا گھر میں موجود ریچھ رانو کو نئے پنجرے میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔ریچھ رانو کو قدرتی ماحول

کی فراہمی کی درخواست اداکارہ مشال خان نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کررکھی ہے۔درخواست کی سماعت کے دوران ماہرین کی جانب سے رپورٹ بھی پیش کی گئی، سماعت کے بعد عدالت نے ریچھ رانو کو قدرتی ماحول کی فراہمی کا حکم دیا، عدالت نے اپنے حکم میں دیگر تمام جانوروں کوبھی قدرتی ماحول فراہم کرنے کا حکم دیا۔ماہرین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریچھ رانو کے لیے پنجرہ 2100 اسکوائر فٹ پر مشتمل ہونا چاہیے، پنجرے کے تینوں اطراف میں کوئی پنجرہ نہیں ہونا چاہیے، پنجرے کے باہر دو اطراف بڑے بڑے درخت بھی لگائے جائیں، درختوں کے سائے سے رانو کو قدرتی ماحول فراہم ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رانو کا پنجرہ بھی مکمل طور پر نیا بنایا جائے، پانی اور بجلی کا مکمل بندوبست بھی ہونا چاہیے، عدالت نے کے ایم سی اور زو اتھارٹی کو ماہرین کی سفارشات پر عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…