پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

112افراد پر مشتمل پاکستان کا سب سے بڑا خاندان‎

datetime 22  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں جہاں علیحدہ سے رہنے کا رواج فروغ پارہا ہے وہاں کچھ ایسی فیملیاں بھی ہیں جو جوائنٹ فیملی سسٹم کو ابھی بھی ترجیح دیتی ہیں ، ایسا ہی ایک خاندان بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے علاقہ کچلاک میں رہتاہے جہاں ایک گھر میں بڑی خوشحالی کیساتھ

جوائنٹ فیملی سسٹم کے تحت ایک خاندان آباد ہے لیکن اس خاندان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ 112افراد پر مشتمل ہے ، جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا خاندان بھی کہلاتا ہے ، حاجی گلاب خان نے 4شادیاں کر رکھی ہیں ، جن میں سے 3حیات ہیں جبکہ ایک وفات پا چکی ہیں ، ان کے کل 18بیٹے ہیں جبکہ 21بیٹیاں ہیں ، 4بیٹے وفات پا چکے ہیں ،بڑے بیٹے کا نام حاجی حبیب اللہ ہے جو کہ پرائیویٹ حج گروپ آرگنائزرہے ، انہوں نے بھی 2شادیاں کر رکھی ہیں جن سے ان کے 14سے 15بچے ہیں ، سارے بچے پڑھ رہے ہیں ، 7سال تک بچے کو مدرے میں پڑھنے کیلئے بھیجا جاتا ہے ،اس کے بعد سکول جاتے ہیں، حاجی حبیب اللہ کا ایک بھائی قاری ، دوسرا حافظ قرآن ہے ، وہ بھی گھر میں پڑھاتے ہیں،بزنس کے معاملات بڑے بھائی دیکھتے ہیں، ان سے چھوٹا بھائی محیب اللہ ہے جو کہ اس وقت ایم فل سوشیالوجی کر رہے ہیں، گھر میں مکمل دینی ماحول ہے ،کچن 480فٹ پر مشتمل ہے ،سب مل کرکھانا کھاتے ہیں،لڑکے اور لڑکیوں

کیلئے علیحدہ علیحدہ دستر خوان لگتا ہے ، والد صاحب نے اصول بنا رکھا ہے کہ مغرب کی نماز سے پہلے گھر پہنچنا ہے ،گھر کا رقبہ 88ہزار فٹ یعنی 2ایکڑ ہے ،33کمرے ہیں ، بڑا سا کچن ہے ، ایک مہمان خانہ ہے ،قبائلی رواج کے مطابق ہم ان کی بہت آئو بھگت کر تے ہیں، بچوں کیلئے

50خوبانی ، 70,75انار ،انگور کے تقریباً 30،35 درخت ہیں،گھر کیلئے ایک بس رکھی ہوئی ہے ،راشن لانے کیلئے ایک مزدہ رکھا ہواہے ، کوئی بیمار پڑ جائے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو اس کیلئے بھی ایک گاڑی رکھی ہوئی ہے ، کاروبار کیلئے الگ گاڑی رکھی ہوئی ہے ، بچوں کو مہینے میں ایک بار پکنک کیلئے لے جاتے ہیں، گھر کا سارا خرچہ والد صاحب کے ہاتھ میں ہے ، مہینے کا تقریباً6لاکھ خرچہ ہو جاتا ہے ، روزانہ تقریبا ً50کلو آٹا استعمال ہوتا ہے ۔ اتنا بڑا گھرانہ ہونے کے باوجود ہم بہت خوشحال اور دنیا کیلئے ایک مثال ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…