پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کشکول توڑنے کے دعوے داروں نے کشکول کو بڑا کرکے رواں سال کتنا زیادہ قرضہ لے لیا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 16  دسمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ(این این آئی) امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ کشکول توڑنے کے دعوے داروں نے کشکول کو بڑاکرکے رواں سال ساڑھے دس ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے لیے ناکام حکومت نے معیشت گروی رکھ کر ملک کو بین الاقوامی سودی اداروں کامستقل غلام بنادیا ہے حکومت اور اپوزیشن قومی مسائل کے ذمہ دار ہیں جبکہ عوام بے یارو مدد گار غربت

اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔حکومتوں کی لوٹ مار سے ثابت ہوگیا ہے کہ ان لٹیروں کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں واسٹیلشمنٹ نے سقوط ڈھاکہ سے کچھ نہیں سیکھا ۔ ملک وملک سے باہر ملک وملت دشمن آج بھی پاکستان کے دشمنی میں سب سے آگے ہیں ۔مخلص لوگوں کا ساتھ دیکر ملک وملت کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جائے دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ہمارے اختیاررکھنے والے نااہل ناکام قوتوں کی وجہ سے ایک دفعہ ملک دولخت ہوا اب بدعنوانی ولوٹ مار اور بے حسی کی وجہ سے معاشی تباہی وبربادی کاشکار ہے آستین کے سانپوں نے تباہی وبربادی کا بازار گرم کر کررکھا ہے ۔موجودہ حکومت اور ان کے بڑے دعوئوں کے برعکس ان نااہل ناکام حکمرانوں نے رواں سال ساڑھے دس ارب ڈالر جبکہ پچھلے سال ساڑھے آٹھ ارب ڈالر قرضہ لیا تھا ۔یوں اس نے قرض لینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ۔ وزیراعظم کشکو ل توڑنے کے دعوے کرتے تھے اور ماضی کے حکمرانوں کو آئے روز کوستے تھے لیکن خود مسند اقتدار پر بیٹھنے کے بعد انہوںنے ریورس گیئر لگالیا ۔ جس کی وجہ سے ملک معاشی طور پر تباہ وبرباد ہوا عوام دووقت کے کھانے کیلئے ترس رہے ہیں زرعی ملک اجناس دیگر معاشی طور پر کمزور ممالک سے برآمد کر رہے ہیں ۔اگرمعیشت اسی طرح تباہی کے راستے پر گامزن رہی اوربھاری سودی قرضوں کا پہاڑ بلند ہوتا گیا

تو خدا نخواستہ سارے ملک کو غیر ملکی اداروں کو گروی رکھ کر بھی جان چھوٹنے والی نہیں ۔اسلامی قیادت ہی ملک کو تباہ وبربادی سے بچاسکتے ہیں ۔ معیشت وسیاست کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالناہوگا۔ حکمران اپنی عیاشیوں لوٹ مار شاہ خرچیوںکے لیے قرض لے رہے ہیں اور سودی نظام کی زنجیروں میں عوام کو جکڑ رہے ہیں اور اسی قرض کو ادائیگی کیلئے پریشان حال عوام کا

گردن پیش کیا جائیگا۔ یہی وجہ ہے کہ غربت و بے روزگاری کے عذاب سے جان نہیں چھوٹ رہی ۔ حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں کا رخ اپنی جیبیں بھرنے کی بجائے عوامی مفادات کی جانب موڑناہوگا ۔ لوگوں کے لیے دو وقت کا کھانا افورڈ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوچکاہے ۔ ادارے زوال کی جانب سفر کر رہے ہیں ۔عوام نے سب کو آزما لیا اب جماعت اسلامی رہ گئی ہے انشاء اللہ جماعت اسلامی قوم وملت کو تباہی وبربادی سے بچاکر دم لیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…