منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کی وجہ بتائی جائے :سپریم کورٹ

datetime 8  جولائی  2015 |

اسلام آباد ( نیوزڈیسک ) سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملہ پر آج دو ٹوک بات ہو گی ، جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا ہے کیا 25 کو انتخابات نہیں ہوں گے تو پھر وجہ بتائی جائے ، اسلام آباد والوں کو بنیادی حقوق نہ دلا سکا تو فرائض کی ادائیگی میں ناکامی سمجھوں گا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ حکومت کی طرف سے واضح جواب نہ ملنے پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس میں کہا کہ آج اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملہ پر دو ٹوک بات ہو گی۔ انہوں نے تین سوال اٹھائے اور پوچھا کہ کیا اسلام آباد کے شہریوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق نہیں ، ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ پورے ملک میں لوگ مقامی حکومتوں کے نظام سے مستفید ہوں گے اسلام آباد کے شہری محروم کیوں رہیں ، بتایا جائے کہ 25 جولائی کو اسلام آباد بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے تو وجہ بتائی جائے ، پارلیمنٹ کی ترجیحات میں دوسرے بل تو شامل ہیں بلدیاتی انختابات کا بل نہیں
مزیدپڑھیے:طاہر القادری کا سابق صدر پرویز مشرف سے رابطہ

، بتا دیں قومی اسمبلی سے بل پاس ہوئے چار ماہ گزر گئے اب تک کیا ہوا ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ قومی اسمبلی نے مارچ میں بلدیاتی انتخابات کا بل منظور کیا ، جسٹس جواد نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ بنائے گئے قانون میں بھی سقم ہے ، سینٹ نے ترامیم منظور کیں تو بل دوبارہ قومی اسمبلی میں جائے گا ، پارلیمنٹ سے نہیں پوچھ سکتے لیکن حکومت سے تو پوچھ سکتے ہیں کہ اب تک کیا کیا ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ستائیس جولائی کو قومی اسمبلی کا اجلاس شیڈول ہے ، بل میں بہت سی کلریکل غلطیاں ہیں جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ قانون میں نقائص کا جواب ہمیں نہیں اسلام آباد کے شہریوں کو دیں ہم کوئی ہدایت نہیں دیں گے ، خود فیصلہ کریں اور عوام کا سامنا کریں۔ درخواست گزار ظفر علی شاہ نے کہا کہ اسلام آباد میں بااثر بیوروکریٹس ہیں جو الیکشن نہیں ہونے دیتے
مزیدپڑھیے:ایان علی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

، جسٹس جواد نے کہا کہ اسلام آباد کے لوگ اچھوت نہیں کہ انہیں حقوق نہ مل سکیں انتخابات کرانے ہیں یا نہیں حکومت سے ہدایت لیکر بتائیں ، الیکشن تو اسلام آباد میں ہر صورت ہوں گے ، ایک بار غلطی کرلی دوبارہ نہیں کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…